مسجد الحرام میں غسلِ کعبہ کا روح پرور منظر ، آبِ زمزم، عرقِ گلاب اور عود سے بیت اللہ کو معطر کیا گیا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-07-2026
مسجد الحرام میں غسلِ کعبہ کا روح پرور منظر ، آبِ زمزم، عرقِ گلاب اور عود سے بیت اللہ کو معطر کیا گیا
مسجد الحرام میں غسلِ کعبہ کا روح پرور منظر ، آبِ زمزم، عرقِ گلاب اور عود سے بیت اللہ کو معطر کیا گیا

 



 مکہ مکرمہ: مسجد الحرام میں خانۂ کعبہ (بیت اللہ) کو غسل دینے کی روح پرور اور ایمان افروز سالانہ تقریب انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس بابرکت موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ سعود بن مشعل نے تقریب میں شرکت کی، جبکہ متعدد اسلامی ممالک کے سفارت کار، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے نمائندے، علماء، مشائخ اور دیگر معزز شخصیات بھی اس روحانی تقریب کا حصہ بنیں۔غسلِ کعبہ کی یہ مقدس روایت عہدِ نبوی ﷺ سے جاری ہے اور ہر سال 15 محرم الحرام کو نہایت اہتمام اور عقیدت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ تقریب امت مسلمہ کے لیے بیت اللہ سے محبت، احترام اور روحانی وابستگی کی ایک روشن علامت سمجھی جاتی ہے۔

تین مراحل میں مکمل ہوئی بابرکت تقریب

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق غسلِ کعبہ کی تقریب تین اہم مراحل میں مکمل کی گئی، جن میں ہر مرحلے پر غیر معمولی احتیاط اور باریک بینی سے کام لیا گیا تاکہ بیت اللہ کے تقدس اور احترام کو ہر لحاظ سے برقرار رکھا جا سکے۔

پہلے مرحلے میں خانۂ کعبہ کے اندرونی حصے کو آبِ زمزم، عرقِ گلاب، روغنِ گلاب اور خالص عود سے تیار کردہ معطر محلول سے غسل دیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں بیت اللہ کی اندرونی دیواروں اور فرش کو اعلیٰ معیار کی خوشبوؤں سے معطر کیا گیا، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں پورے اندرونی حصے میں عمدہ بخور جلایا گیا، جس سے روح پرور خوشبو پھیل گئی۔

15 لیٹر آبِ زمزم، عرقِ گلاب اور روغنِ گلاب کا استعمال

حرمین شریفین کی دیکھ بھال اور انتظامی امور کی جنرل اتھارٹی نے بتایا کہ غسلِ کعبہ کے لیے استعمال ہونے والی تمام اشیا اعلیٰ ترین معیار کے مطابق پہلے ہی سے تیار کی جاتی ہیں۔

اس سال غسل کے لیے 15 لیٹر آبِ زمزم، 15 لیٹر عرقِ گلاب، 15 لیٹر روغنِ گلاب اور 100 ملی لیٹر خالص عود کا تیل استعمال کیا گیا۔ ان تمام اجزا کو ایک مخصوص تناسب سے ملا کر بیت اللہ کے اندرونی حصے کی تطہیر اور خوشبو کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اتھارٹی کے مطابق ہر مرحلہ پہلے سے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق انجام دیا جاتا ہے تاکہ اس عظیم الشان مقام کے تقدس اور مسلمانوں کی عقیدت کا بھرپور اظہار ہو سکے۔

سخت حفاظتی انتظامات، زائرین کے لیے خصوصی انتظام

غسلِ کعبہ کی تقریب کے دوران مسجد الحرام میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ زائرین کی محدود تعداد کو طواف کی اجازت دی گئی تاکہ تقریب بخیر و خوبی انجام دی جا سکے۔اس دوران کسوۂ کعبہ کی حفاظت کے پیش نظر دروازے کے پردے کو اوپر اٹھا دیا گیا تاکہ بیت اللہ کے اندر آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکے اور غسل کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو۔تقریب کے اختتام پر خانۂ کعبہ کے دروازے کو دوبارہ بند کر دیا گیا۔

عہدِ نبوی ﷺ سے جاری مقدس روایت

غسلِ کعبہ کی روایت عہدِ رسالت مآب ﷺ سے چلی آ رہی ہے اور صدیوں سے اسلامی دنیا میں اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ہر سال اس بابرکت تقریب کے ذریعے بیت اللہ کی تطہیر کی جاتی ہے، جو نہ صرف ایک مذہبی رسم بلکہ مسلمانوں کے عشق، عقیدت اور اللہ کے گھر سے والہانہ وابستگی کا اظہار بھی ہے۔

اسلامی دنیا کے کروڑوں مسلمان اس روحانی تقریب کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے ایمان کی تازگی، روحانی پاکیزگی اور بیت اللہ کی عظمت کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔