دنیا میں دولت کا ارتکاز خطرناک حد تک بڑھ گیا، آکسفیم کی رپورٹ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-01-2026
دنیا میں دولت کا ارتکاز خطرناک حد تک بڑھ گیا، آکسفیم کی رپورٹ
دنیا میں دولت کا ارتکاز خطرناک حد تک بڑھ گیا، آکسفیم کی رپورٹ

 



واشنگٹن: عالمی سطح پر معاشی ناہمواری ایک بار پھر تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ عالمی فلاحی ادارے آکسفیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف 12 امیر ترین افراد کے پاس چار ارب سے زائد انسانوں، یعنی دنیا کی غریب ترین نصف آبادی سے بھی زیادہ دولت موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران ارب پتی افراد کی مجموعی دولت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ پہلی مرتبہ دنیا بھر میں ارب پتیوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ ان کی مجموعی دولت میں 16.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 18.3 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی۔

آکسفیم کے مطابق دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی مجموعی دولت 2.3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس فہرست میں سرفہرست ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک ہیں، جو دنیا کے سب سے امیر شخص قرار دیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں معاشی عدم توازن کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

آکسفیم کے مطابق ضابطوں میں نرمی، کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق عالمی معاہدوں کو کمزور کرنا اور بڑی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے دنیا کے امیر ترین افراد کو غیر معمولی فائدہ پہنچا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دولت کا یہ بڑھتا ہوا ارتکاز خطرناک سیاسی نتائج کو جنم دے رہا ہے، کیونکہ دولت کے ذریعے سیاسی اثر و رسوخ حاصل کیا جا رہا ہے۔

امیر کاروباری شخصیات کی جانب سے میڈیا اداروں کی خریداری کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا گیا ہے۔ آکسفیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امیتابھ بیہر نے کہا کہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق نہ صرف معاشی عدم استحکام کو بڑھا رہا ہے بلکہ سیاسی آزادیوں کو بھی کمزور کر رہا ہے اور عوامی حقوق کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ آکسفیم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ دولت کی منصفانہ تقسیم اور سخت ٹیکس نظام کے ذریعے بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری کا فوری حل تلاش کرے، بصورت دیگر اس کے سماجی اور سیاسی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔