طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ،خواتین کو شوہر پیٹ سکتے ہیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-02-2026
طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ،خواتین کو شوہر پیٹ سکتے ہیں
طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ،خواتین کو شوہر پیٹ سکتے ہیں

 



کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک نیا فوجداری ضابطہ نافذ کر دیا ہے جس کے بعد انسانی حقوق، خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ضابطے میں گھریلو تشدد سے متعلق ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جن پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئے قانون کے تحت شوہر کو بیوی اور بچوں کو جسمانی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ تشدد کے نتیجے میں ہڈیاں نہ ٹوٹیں اور نہ ہی نمایاں یا کھلے زخم آئیں۔ اگر شدید تشدد کے باعث فریکچر یا واضح چوٹ ثابت ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ ضابطہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

قانون کے تحت متاثرہ خاتون کو عدالت میں تشدد ثابت کرنا ہوگا۔ اسے مکمل پردے میں رہتے ہوئے اپنے زخم جج کو دکھانے ہوں گے، جبکہ عدالتی کارروائی کے دوران شوہر یا کسی مرد سرپرست کی موجودگی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

مزید یہ کہ اگر کوئی شادی شدہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے رشتہ داروں سے ملنے جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ نئے ضابطے کا آرٹیکل 9 معاشرے کو چار طبقات علماء، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ میں تقسیم کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت سزا کا تعین جرم کی نوعیت کے بجائے ملزم کی سماجی حیثیت کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی عالمِ دین جرم کا ارتکاب کرے تو اسے نصیحت تک محدود رکھا جائے گا، اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے فرد کو عدالت طلب کر کے مشورہ دیا جائے گا، متوسط طبقے کو قید جبکہ نچلے طبقے کو قید کے ساتھ جسمانی سزا بھی دی جا سکے گی۔

سنگین جرائم میں جسمانی سزا اصلاحی اداروں کے بجائے مذہبی علماء کے ذریعے نافذ کی جائے گی۔ 90 صفحات پر مشتمل اس ضابطے کے نفاذ کے ساتھ ہی 2009 میں متعارف کرایا گیا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون (EVAW) بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جو سابقہ حکومت کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ نئے قانونی ڈھانچے نے افغانستان میں انسانی حقوق اور قانونی مساوات سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔