چاند کی مٹی میں چنے اگانے کا کامیاب تجربہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-03-2026
چاند کی مٹی میں چنے اگانے کا کامیاب تجربہ
چاند کی مٹی میں چنے اگانے کا کامیاب تجربہ

 



واشنگٹن: ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چاند کے سخت اور غیر زرخیز ماحول کے باوجود وہاں فصلیں اگانا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے پہلی بار چاند کی مٹی جیسی مٹی میں چنوں کے پودے کامیابی سے اگا کر ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں چاند کی سطح پر پائی جانے والی مٹی، جسے ’ریگولتھ‘ (Regolith) کہا جاتا ہے، کو استعمال کیا گیا۔

عام طور پر اس مٹی کو کاشتکاری کے لیے غیر موزوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں نامیاتی اجزاء نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور اس کی ساخت بھی سخت ہوتی ہے۔ تاہم تجربے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ مناسب طریقہ کار اختیار کر کے اس مٹی میں بھی پودے اگائے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں چاند پر انسانی زندگی کے امکانات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر خلا باز چاند پر طویل عرصے تک قیام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خوراک کے مقامی ذرائع پیدا کرنے ہوں گے، اور یہی تجربات اس سمت میں بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

ناسا اور دیگر خلائی ادارے آنے والے برسوں میں انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے اور وہاں مستقل یا عارضی قیام کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ خلا بازوں کے لیے خوراک کہاں سے آئے گی، کیونکہ چاند کا ماحول انتہائی سخت ہے اور وہاں کی مٹی روایتی زراعت کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں چاند کی مٹی کو بہتر بنانے اور مناسب غذائی اجزاء فراہم کرنے کے طریقے تیار کر لیے جائیں تو وہاں مختلف اقسام کی فصلیں اگانا ممکن ہو سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو خلا میں انسانی بستیوں کے خواب کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔