لندن: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی انشورنس کی لاگت میں حالیہ عالمی تناؤ کے بعد غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ سے قبل انشورنس پریمیم جہاز کی کل قیمت کا تقریباً 0.25 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 3 فیصد تک پہنچ گیا ہے، یعنی تقریباً 12 گنا اضافہ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاز مالکان کو لاکھوں ڈالر اضافی خرچ کرنے پڑ رہے ہیں تاکہ ان کے جہاز اور مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش یا خطرناک صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک وہ ہیں جو اس خطے سے اپنی توانائی کی بڑی مقدار درآمد کرتے ہیں، خصوصاً ایشیائی ممالک جیسے چین، بھارت اور جاپان، اور یورپی ممالک جو خلیج فارس سے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال میں امریکی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے خلیج سے تجارت کرنے والے جہاز مالکان کے لیے انشورنس اور ضمانت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ تجارت میں تسلسل برقرار رہ سکے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ اس دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بھی بلند ہو گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد تیل کی قیمت تقریباً 26 فیصد بڑھ گئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت فی بیرل تقریباً 81 ڈالر کے قریب ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ چند دنوں میں اتوار کے بعد سے 7 آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح میں نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے خطے میں بحری نقل و حمل کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
تجارت اور توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات میں مزید بگاڑ آیا تو عالمی توانائی کی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، اور تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔