آبنائے ہرمز کی بندش: اسٹارمر نے35 ممالک کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 02-04-2026
آبنائے ہرمز کی بندش: اسٹارمر نے35 ممالک کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا
آبنائے ہرمز کی بندش: اسٹارمر نے35 ممالک کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا

 



لندن: برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے تناظر میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 35 ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق اس اہم بحری راستے کی بحالی ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہوگا، جس کے لیے مشترکہ عالمی کوششیں ناگزیر ہیں۔ اس مقصد کے لیے برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر آج ایک ورچوئل اجلاس کی میزبانی کریں گی، جس میں مختلف ممالک جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے سفارتی اور سیاسی پہلوؤں پر غور کریں گے۔

اجلاس میں ان جہازوں اور ان کے عملے کے تحفظ پر بھی بات ہوگی جو اس وقت راستہ بند ہونے کے باعث پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ تیل، گیس اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کے طریقے بھی زیرِ بحث آئیں گے۔ کیئر اسٹارمر نے مزید بتایا کہ اس سفارتی مشاورت کے بعد فوجی ماہرین بھی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے سیکیورٹی حکمتِ عملی تیار کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کشیدہ حالات میں سفارت کاری کلیدی اہمیت رکھتی ہے، تاہم بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی آسان نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم ترین راستہ ہے، حالیہ کشیدگی کے باعث عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ صورتحال ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی ممالک نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک تیل و گیس ذخائر استعمال کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق الجزیرہ نے بتایا ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز سمیت متعدد ممالک پہلے ہی محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے تعاون پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ ممالک یا تو امریکا سے ایندھن خریدیں یا خود کارروائی کر کے اس اہم راستے کو بحال کریں۔