اسلام آباد: پاکستانی حکام نے ہفتے کے روز براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتا ہونے والے چھ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق لاپتا افراد میں معروف برطانوی-نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا (نِمز دائی) بھی شامل ہیں۔ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں کے ٹو کے قریب واقع براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے، جس کی بلندی 8,051 میٹر ہے اور اسے کوہ پیمائی کے لیے انتہائی دشوار گزار چوٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
پاکستان الپائن کلب (اے سی پی) کے مطابق دس رکنی کوہ پیماؤں کا ایک گروپ جمعرات کی صبح تقریباً نو بجے 7,000 میٹر کی بلندی پر برفانی تودے کی زد میں آ گیا تھا، جس کے بعد تمام ارکان لاپتا ہو گئے۔ اس گروپ میں نیپال کے چھ جبکہ پاکستان، عمان، امریکہ اور چین کا ایک ایک کوہ پیما شامل تھا۔
اے سی پی کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد نے بتایا کہ جمعہ کو چار لاشیں برآمد کی گئیں، جن میں عمان کی نادرہ احمد عبداللہ الحارثی، نیپال کے پور بہادر گرونگ اور امریکہ کی میلوری گیز کی شناخت ہو چکی ہے۔ لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خراب موسم کے باعث جمعہ کی شام ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق معروف پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کی قیادت میں تین رکنی شہری ریسکیو ٹیم زمینی سطح پر تلاش کا کام کر رہی ہے، جبکہ پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی اس آپریشن میں شریک ہیں۔ ہفتے کی صبح زمینی سرچ آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا، جبکہ بیس کیمپ میں موجود نیپالی کوہ پیما اور دیگر بین الاقوامی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہو گئی ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے ڈرون سے حاصل ہونے والی تصاویر کے ذریعے تقریباً 6,000 میٹر کی بلندی پر مزید کچھ کوہ پیماؤں کی موجودگی کے آثار بھی دیکھے ہیں۔ پاکستان الپائن کلب کے مطابق مختلف ٹیمیں مشترکہ طور پر چوٹی کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ بعض لاپتا کوہ پیماؤں سے موصول ہونے والے جی پی ایس سگنلز سے معلوم ہوا ہے کہ برفانی تودہ انہیں تقریباً 1,000 میٹر نیچے بہا لے گیا، جہاں وہ پھنس گئے ہیں۔ برطانوی-نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا، جو "نِمز دائی" کے نام سے مشہور ہیں، دنیا کے ممتاز کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور وہ بھی تاحال لاپتا افراد میں شامل ہیں۔