ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بدھ کی علی الصبح اعلان کیا کہ اس کی افواج نے امریکی فوج کے تعاون سے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فوجی کارروائی کی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
سعودی حکومت نے کہا ہے کہ اس کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا نہیں، تاہم اگر اس کے قومی مفادات، شہریوں یا اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اسے مناسب جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کسی نئی فوجی محاذ آرائی کا خواہاں نہیں، لیکن ملکی سلامتی اور اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔
اس سے قبل منگل کی شام سعودی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرون مار گرائے، جن کا ہدف مشرقی صوبے میں واقع اہم تیل کی تنصیبات تھیں۔ بروقت کارروائی کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ حملے ایک بار پھر عراقی علاقے سے کیے گئے اور ان کے پیچھے ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے ان حملوں کو "دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ میجر جنرل المالکی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت سعودی عرب کو اپنی خودمختاری، شہریوں اور اقتصادی وسائل کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو سعودی عرب مناسب وقت، مقام اور طریقے سے بھرپور جواب دے گا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق پیر کے روز بھی عراق سے کئی ڈرون داغے گئے تھے، جن کا ہدف مشرقی صوبے کی تیل تنصیبات کے علاوہ دارالحکومت ریاض بھی تھا، تاہم سعودی فضائی دفاع نے تمام ڈرون راستے ہی میں تباہ کر دیے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے اپنی تیل تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں پر تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔
اس کا مؤقف ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایسے حملے عالمی توانائی کی فراہمی اور علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اسی لیے اس نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مسلسل مضبوط کیا ہے اور اتحادی ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا کی سلامتی کی صورتحال پہلے ہی نہایت حساس ہے۔
ماہرین کے مطابق عراق سے ہونے والے ڈرون حملے اور ان کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کی مشترکہ جوابی کارروائی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اگرچہ سعودی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کی اولین ترجیح امن کا قیام ہے، تاہم وہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔