جدہ/ نئی دہلی
سعودی عربیہ نے حج 2026 کے دوران مقدس مقامات پر جمع ہونے والے لاکھوں عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ڈرونز۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ترین نگرانی کی ٹیکنالوجیز تعینات کر دی ہیں۔ سعودی اخبار اوکاظ کے مطابق یہ اقدامات ایک جامع سکیورٹی اور انتظامی نظام کا حصہ ہیں جس کا مقصد حج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنا اور غیرقانونی دراندازی کو روکنا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر داخلہ اور سپریم حج کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے حج 1447 ہجری کے لیے منظور شدہ سکیورٹی اور انتظامی منصوبوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں حج سکیورٹی فورسز کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یہ جائزہ مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریب کے دوران لیا گیا جس میں مختلف سکیورٹی اداروں اور عسکری یونٹس نے شرکت کی۔
Security mode: activated 🔥
— Motivation with Faith (@MWFaithOfficial) May 22, 2026
Hajj security forces are fully locked in, protecting every pilgrim’s sacred journey like it’s their own. Real duty, real honor. 🕋❤️ pic.twitter.com/nGCNhMux2I
تقریب کے دوران متعدد فیلڈ اور سکیورٹی مشقوں کا انعقاد کیا گیا جن میں ہنگامی حالات سے نمٹنے۔ ہجوم کے دباؤ کو کنٹرول کرنے۔ عازمین حج کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے اور مقدس مقامات پر فوری رسپانس کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر جدید سکیورٹی گاڑیوں۔ ڈرون اور نگرانی کے جدید نظام۔سکیورٹی ایوی ایشن یونٹس۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور فیلڈ سپورٹ وہیکلز کی کارکردگی بھی پیش کی گئی۔
پبلک سکیورٹی کے ڈائریکر اور حج سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ محمد البسامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی قیادت نے ضیوف الرحمن کی خدمت کے لیے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائی ہیں۔ ان کے مطابق مملکت نے حج انتظامات کو دنیا میں کراؤڈ مینجمنٹ کے ایک مثالی ماڈل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کو انتہائی منظم انداز میں کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ عازمین مکمل تحفظ اور سکون کے ساتھ مناسک ادا کر سکیں۔
.webp)
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات اور حاصل شدہ اسباق کی روشنی میں اس مرتبہ جامع سکیورٹی اور حفاظتی پلان تیار کیا گیا ہے۔اس پلان کے تحت مکہ مکرمہ۔ مدینہ منورہ۔ منیٰ۔ عرفات۔ مزدلفہ اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی اور مربوط کمانڈ سسٹمز کے ذریعے فورسز کی فیلڈ تیاری اور فوری فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنایا گیا ہے۔سعودی حکام نے اس سال شدید گرمی اور غیر قانونی حجاج کے مسئلے کے پیش نظر خصوصی اقدامات بھی کیے ہیں۔ منیٰ اور جمرات کے علاقوں میں اضافی ایئر کولنگ سسٹمز۔ چلتی واک ویز۔ جدید برقی سیڑھیاں اور سایہ دار مقامات کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ عازمین کو گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
کوئی سیاسی رنگ نہیں
محمد البسامی نے واضح کیا کہ حج کو سیاسی رنگ دینے۔ عازمین کے امن و سکون میں خلل ڈالنے یا سکیورٹی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حج سکیورٹی فورسز ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
.webp)
ڈرونز اور فضائی نگرانی کے ذریعے قوانین پر سخت عمل درآمد۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام ’پرمٹ کے بغیر حج نہیں‘ مہم کے تحت ڈرونز اور خصوصی طیاروں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ غیرقانونی طور پر مقدس مقامات میں داخل ہونے کی کوششوں کی نگرانی کی جا سکے۔ ڈرونز وسیع علاقوں کی فوری نگرانی کرتے ہیں اور سکیورٹی فورسز کو مشتبہ نقل و حرکت یا دراندازی کی کوششوں کے بارے میں فوری اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ اس جدید نظام میں سمارٹ نگرانی کے نیٹ ورکس۔ ہائی ریزولوشن کیمرے اور تھرمل امیجنگ آلات بھی شامل ہیں جو رات اور دشوار حالات میں بھی مؤثر نگرانی ممکن بناتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہجوم کا تجزیہ اور چہرہ شناسی۔
سعودی حکام مصنوعی ذہانت پر مبنی کراؤڈ اینالیسز سسٹمزاستعمال کر رہے ہیں جو رش بڑھنے سے پہلے ہی ہجوم کے دباؤ کی پیشگوئی کرتے ہیں اور عازمین کو متبادل راستوں کی جانب منتقل کرتے ہیں تاکہ حادثات اور بے ہنگم صورتحال سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے جس کے ذریعے افراد کی شناخت اور سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے-جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو عازمین کے محفوظ اور بہتر روحانی تجربے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
400px
حج کے دوران اہم ہنگامی رابطہ نمبرز
اگر آپ حج کی ادائیگی کر رہے ہیں تو سعودی عرب کے سرکاری ہنگامی رابطہ نمبرز سے واقف رہنا ضروری ہے۔
سکیورٹی ایمرجنسی۔
911 پر کال کریں۔
طبی اور دیگر ہنگامی صورتحال۔
977 پر رابطہ کریں۔
عازمینِ حج کی عمومی رہنمائی اور مدد۔
1966 پر کال کریں۔ یہ ’ضیوف الرحمن کیئر سینٹر‘ کا سرکاری ہیلپ لائن نمبر ہے۔