ریاض: سعودی عرب نے اپنے ثقافتی ورثے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے اونٹوں کے لیے پاسپورٹ جاری کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں موجود اونٹوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے گی تاکہ ان کی نقل و حرکت، افزائش اور صحت سے متعلق ایک مستند اور جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جا سکے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزارتِ ماحولیات، پانی اور زراعت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اونٹوں سے وابستہ شعبے کی پیداواری صلاحیت، شفافیت اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزارت کے مطابق، پاسپورٹ سسٹم کے ذریعے اونٹوں کی شناخت، ملکیت اور افزائش کے ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹل نظام سے جوڑا جائے گا۔
اس حوالے سے سعودی عرب کے نائب وزیر برائے ماحولیات، پانی اور زراعت منصور الموشیطی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے اونٹوں کے لیے تیار کیے گئے سبز رنگ کے پاسپورٹ کی تصویر بھی جاری کی۔
پاسپورٹ پر سعودی عرب کا قومی نشان اور سنہرے رنگ میں اونٹ کی شبیہ نمایاں ہے، جو اس منصوبے کی علامتی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ تھی۔ یہ جانور صدیوں سے عرب معاشرے میں نہ صرف نقل و حمل کا ذریعہ رہے ہیں بلکہ بدوی ثقافت، تجارت اور بقا کا اہم ستون بھی سمجھے جاتے رہے ہیں۔
آج کے جدید دور میں بھی اونٹ سعودی عرب میں وقار، سماجی حیثیت اور ثقافتی شناخت کی علامت مانے جاتے ہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت کے باعث عرب دنیا میں اونٹوں کی افزائش ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ سعودی عرب میں ہر سال منعقد ہونے والے مختلف تہواروں اور میلوں میں اونٹوں کے حسن اور نسل کے مقابلے ہوتے ہیں، جن پر شوقین افراد اپنے اونٹوں کی تیاری کے لیے لاکھوں ڈالرز تک خرچ کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اونٹوں کو پاسپورٹ جاری کرنے کا یہ اقدام نہ صرف ثقافتی ورثے کے تحفظ کی علامت ہے بلکہ یہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت زرعی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور حیوانی وسائل کے بہتر انتظام کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہے۔