نئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کے لیے تین روزہ ہندوستان دورے پر جمعہ کو نئی دہلی پہنچ گئے۔ پوتن کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہندوستان آیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’18ویں برکس سربراہی اجلاس کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا پرتپاک خیرمقدم۔ مرکزی وزیر مملکت کے۔ وی۔ سنگھ نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ ہندوستان اور روس کے درمیان کثیر جہتی اور دیرینہ مضبوط تعلقات ہیں، جو خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔‘‘
فروری 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب پوتن روس سے باہر منعقد ہونے والے کسی برکس سربراہی اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کریں گے۔ ہندوستان کی میزبانی میں ہفتہ سے شروع ہونے والے دو روزہ برکس سربراہی اجلاس میں خوراک، توانائی، صحت، قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے اور اہم سپلائی چین کے شعبوں میں اجتماعی صلاحیت مضبوط کرنے پر زور دیے جانے کی توقع ہے۔ نئی دہلی کی کوشش ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات سے نمٹنے کے لیے برکس کو ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر مزید مضبوط کیا جائے۔
نئی دہلی میں یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب عالمی معیشت روس-یوکرین جنگ، مغربی ایشیا کے بحران، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت والی حکومت کی تجارتی اور ٹیرف پالیسیوں کے منفی اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ، ایران کے صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم، ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید النہیان، ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد علی اور ویتنام کے وزیر اعظم لی منہ ہنگ سمیت کئی اعلیٰ رہنما سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
پوتن اور مودی کے درمیان جمعہ کی دوپہر مختلف امور پر وسیع دو طرفہ بات چیت ہونے کا پروگرام ہے۔ اس ملاقات میں دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی، ادویات اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔