ریاض: دنیا بھر میں ماہِ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران عبادات اور روزوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر پرتگالی سپر اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو سے متعلق بھی مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ افواہیں یہ ہیں کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران انہوں نے بھی روزہ رکھا، تاہم اس حوالے سے حقیقت کچھ مختلف ہے۔
رونالڈو اس وقت سعودی کلب النصر کا حصہ ہیں اور حال ہی میں اپنے معاہدے میں توسیع کے بعد 2027 تک کلب سے وابستہ رہیں گے۔ سعودی عرب میں قیام کے باعث وہ مقامی ثقافت اور روایات کے قریب آئے ہیں، جس کے بعد ان سے متعلق یہ خبریں سامنے آئیں۔ النصر کے سابق کھلاڑی شائے شراحیلی نے حالیہ گفتگو میں ان افواہوں کی وضاحت کی۔
ان کے مطابق، گزشتہ برس رمضان المبارک کے آغاز پر رونالڈو نے ٹیم کے مسلم کھلاڑیوں کے ساتھ یکجہتی اور ذاتی تجربے کے طور پر دو دن روزہ رکھنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ مسلمان کھلاڑی روزے کے دوران جسمانی اور ذہنی طور پر کیا محسوس کرتے ہیں۔
شراحیلی نے بتایا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے روزمرہ معمولات میں اچانک تبدیلی آسان نہیں ہوتی، خاص طور پر پیشہ ورانہ کھیل کے سخت شیڈول کے ساتھ۔ اسی لیے یہ اقدام محض ایک ذاتی تجربہ تھا، نہ کہ کسی مذہبی وابستگی یا مستقل فیصلے کا اعلان۔ سوشل میڈیا پر اس سے قبل رونالڈو کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں وہ میدان میں دعا کے انداز میں نظر آئے تھے، جس نے ان افواہوں کو مزید تقویت دی۔
تاہم قریبی ذرائع کے مطابق یہ ان کا ذاتی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کا اظہار تھا۔ یوں واضح ہے کہ رونالڈو کا روزہ رکھنا کسی مذہبی تبدیلی کی علامت نہیں بلکہ ایک مختصر اور ذاتی نوعیت کا تجربہ تھا، جسے سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔