ممتاز عالمِ دین مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی و دینی دنیا سوگوار

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 29-06-2026
ممتاز عالمِ دین مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی و دینی دنیا سوگوار
ممتاز عالمِ دین مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی و دینی دنیا سوگوار

 



 لکھنؤ: برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، محدث، مفکر، مصنف اور شعلہ بیان خطیب مولانا سید سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے ملک و بیرونِ ملک علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔

 موصولہ اطلاعات کے مطابق مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی نمازِ جنازہ آج نمازِ عصر کے بعد جامعہ سید احمد شہید، کٹولی، ملیح آباد میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں وہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔مولانا سید سلمان حسینی ندوی برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، محد، مصنف، مفکر اور شعلہ بیان مقرر تھے۔ وہ طویل عرصے تک دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے وابستہ رہے اور تدریسِ حدیث کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ دینی، علمی، فکری اور عصری موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف، مقالات اور خطابات علمی و دینی حلقوں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی وفات سے عالمِ اسلام ایک باوقار علمی و فکری رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔

خاندانی پس منظر اور پیدائش

مولانا سید سلمان حسینی ندوی 1954ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا سید محمد طاہر حسینی تھے، جن کا تعلق اترپردیش کے ضلع مظفر نگر کے قصبہ منصورپور کے ایک معزز سادات خاندان سے تھا۔ آپ عظیم اسلامی مفکر علامہ سید ابوالحسن علی حسنی ندوی (علی میاں) کے سگے بھتیجے اور سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی کے نواسے تھے۔ اسی علمی ماحول نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ علمی سفر

مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر اور محلے کے مکتب سے حاصل کی، بعد ازاں دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخلہ لیا اور حفظِ قرآن مکمل کیا۔ 1974ء میں عالمیت اور 1976ء میں فضیلت کی سند حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب کی معروف جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں داخلہ لیا، جہاں سے 1980ء میں حدیث میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ معروف محدث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ کی نگرانی میں مکمل ہوا، جسے ان کی علمی استعداد کا نمایاں نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔

چالیس برس تک تدریسِ حدیث

سعودی عرب سے واپسی کے بعد مولانا دارالعلوم ندوۃ العلماء میں حدیث کے استاذ مقرر ہوئے اور تقریباً چالیس برس تک درسِ حدیث دیتے رہے۔ ان کے ہزاروں شاگرد آج دنیا کے مختلف ممالک میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مولانا کا تدریسی انداز تحقیق، استدلال اور وسعتِ نظر پر مبنی تھا۔ وہ طلبہ میں کسی مخصوص مسلک کی تقلید کے بجائے علمی جستجو، تحقیق اور حق کی تلاش کا جذبہ پیدا کرنے پر زور دیتے تھے۔

علامہ ابوالحسن علی ندوی کے فکری جانشین

مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی شخصیت کی تعمیر و تربیت میں علامہ سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کا غیر معمولی کردار رہا۔ علمی و فکری حلقوں میں انہیں علی میاں کے نمائندہ اور ان کے علمی مشن کے امین کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔

دعوتی، تعلیمی اور سماجی خدمات

1974ء میں ندوہ سے فراغت کے بعد مولانا نے جمعیت شباب اسلام کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد نوجوانوں کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت تھا۔ بعد میں یہ تنظیم ایک وسیع تعلیمی و سماجی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔

1985ء میں انہوں نے جامعہ سید احمد شہید کی بنیاد رکھی، جو آج اہم دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی نگرانی میں متعدد مدارس، پچاس سے زائد مکاتب، لڑکیوں کے لیے کلیۃ حفصہ للبنات، مختلف حراء اسکولز اور ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج و ہسپتال سمیت کئی تعلیمی و رفاہی ادارے قائم ہوئے۔

علمی و تحقیقی خدمات

مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے حدیث، علومِ قرآن، فقہ، تعلیم، سیاست اور عصری مسائل پر عربی اور اردو میں متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔ حدیث کے فن میں ان کی نمایاں تصانیف میں:

  • لمحۃ عن علم الجرح والتعدیل

  • دروس من الحدیث النبوی الشریف

  • مفردات القرآن للبخاری

  • المقدمۃ فی اصول الحدیث

  • بین اہل الرأی و اہل الحدیث

شامل ہیں۔

اردو میں ان کی معروف کتابوں میں:

  • ہمارا نصابِ تعلیم کیا ہو؟

  • ترتیب و تدوینِ قرآنی

  • آخری وحی

  • علماء اور سیاست

  • انتخابِ تفاسیر

  • قرآن کی ترتیبِ نزولی

  • مختصر تاریخِ فلسطین

  • عالمی سیاسی نظریات اور اسلامی سیاست

سمیت متعدد کتابیں اور رسائل شامل ہیں، جنہیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ اور قومی کردار

مولانا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن رہے اور مختلف قومی و بین الاقوامی علمی و دینی فورمز پر اسلام، شریعت، تعلیم اور امتِ مسلمہ کے مسائل پر مؤثر انداز میں اظہارِ خیال کرتے رہے۔ ان کی تقاریر اور تحریریں عالمِ اسلام میں وسیع پیمانے پر پڑھی اور سنی جاتی تھیں۔

علمی دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان

مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی وفات سے دینی و علمی دنیا ایک بلند پایہ محدث، مفکر، مصنف، معلم اور داعی سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کی تدریسی خدمات، علمی تصانیف، دعوتی جدوجہد اور اصلاحی فکر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جبکہ ان کے ہزاروں شاگرد اور قائم کردہ تعلیمی ادارے ان کے علمی ورثے کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔