ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کیف پر 72 گھنٹے تک حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کو یہ اطلاع دی۔ پیسکوف نے کہا، ’’پوتن نے حکم دیا ہے کہ آج نصف شب سے تین دن تک کیف پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے امن مذاکرات کے لیے کیف کے دورے کی تیاریوں سے متعلق ہے۔ یوکرین پر روس کے وسیع حملے کو ختم کرنے کی تعطل کا شکار کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کے روز ماسکو پہنچے۔ روسی سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ اطلاع دی۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں فریقوں نے فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی ایلچیوں کے دورے کے دوران یوکرین فضائی حملے روک دے گا اور ماسکو سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کی۔ ماسکو نے اس تجویز پر عوامی طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
واشنگٹن کی پانچویں سال میں داخل ہوچکی جنگ ختم کرانے کی کوششیں سست پڑ گئی ہیں، کیونکہ گزشتہ چھ ماہ سے امریکہ کی توجہ ایران کے ساتھ جاری لڑائی پر مرکوز ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کے مطابق روسی خصوصی ایلچی کریل دمتریئیف نے ہوائی اڈے پر امریکی ایلچیوں سے ملاقات کی۔ وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کشنر نے آخری معلوم ماسکو دورہ جنوری میں کیا تھا، جب انہوں نے کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس سے پہلے کبھی کیف کا دورہ نہیں کیا، تاہم زیلنسکی نے کہا کہ انہیں اتوار کو یوکرین کے دارالحکومت پہنچنے کی امید ہے۔
امن کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور ایسے میں روس نے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیف اور دیگر شہروں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ مسلسل بمباری اب دن کے وقت بھی کی جا رہی ہے۔ جمعہ کو روس کے ایک ڈرون نے کیف کی اہم سرکاری عمارتوں میں سے ایک کو نشانہ بنایا۔ یہ یوکرین کی سکیورٹی سروس (ایس بی یو) کا ہیڈکوارٹر تھا۔ ایس بی یو ان ایجنسیوں میں شامل ہے جو روس کے اندر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان فضائی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کی فوجیں 1,250 کلومیٹر طویل محاذ پر پیش قدمی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
روس حالیہ دنوں میں تیز رفتار جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرون استعمال کر رہا ہے اور کیف میں فضائی حملوں کے سائرن کی بار بار گونج اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔ زیلنسکی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ روس نے رات بھر کیف اور بوریسپِل بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کیے اور ان حملوں کو امریکی ایلچیوں کے مجوزہ دورے سے جوڑا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ واضح ہے کہ ہوائی اڈوں پر روس کے یہ حملے اس بات پر جاری بات چیت اور تیاریوں کا جواب ہیں کہ ممکنہ طور پر امریکی وفد یوکرین جانے کے لیے طیارہ استعمال کرے گا۔‘‘
یوکرین کے جنوبی علاقے دنیپروپیٹروفسک میں ایک صنعتی مرکز پر روسی حملوں میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔ مقامی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکسینڈر ہانژا نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد اسی مقام پر کام کرنے والے ملازمین تھے۔