امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی، سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات مؤخر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-06-2026
امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی، سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات مؤخر
امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی، سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات مؤخر

 



برن/واشنگٹن: سوئٹزرلینڈ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق مجوزہ مذاکرات فی الحال ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ یہ اعلان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مجوزہ دورۂ سوئٹزرلینڈ کی منسوخی کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے درمیان ہونے والے ابتدائی مذاکرات کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ بدستور ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے تیار ہے اور برگن سٹاک میں متعلقہ انتظامات جاری ہیں۔ وزارت کی جانب سے مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ معاہدے کے اگلے مراحل پر بات چیت کے لیے طے شدہ دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق مذاکراتی عمل کے پیچیدہ انتظامات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا، تاہم واشنگٹن جلد از جلد تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع کرنے کا خواہاں ہے۔

امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ وفد کب سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگا یا مذاکرات دوبارہ کب منعقد ہوں گے۔

اس پیش رفت سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنا طے شدہ دورۂ سوئٹزرلینڈ ملتوی کر دیا تھا۔ اسلام آباد کے حکام نے جمعے کو ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی رسمی تقریب منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم بعد ازاں اس کی ضرورت باقی نہ رہی کیونکہ دونوں ممالک پہلے ہی الیکٹرانک ذرائع سے معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔

’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے نام سے موسوم اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اسلام آباد میں اس دستاویز کی توثیق کی۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران، پاکستان اور قطر سمیت دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کے ابتدائی مراحل پر تبادلہ خیال کے لیے برگن سٹاک میں ملاقات کریں گے، تاہم بعد میں یہ اجلاس مؤخر کر دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے نئے دور کی قیادت کرنے والے تھے، لیکن دورے کے التوا نے جنگ بندی اور عبوری معاہدے کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کچھ اطلاعات کے مطابق ایران نے بھی اپنا وفد سوئٹزرلینڈ بھیجنے میں تاخیر کی ہے۔ لبنانی نشریاتی ادارے المیادین نے رپورٹ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل کے باعث تہران نے مذاکراتی عمل میں عارضی توقف کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد تیل بردار جہازوں کو ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

تاہم امریکہ کے اندر اس معاہدے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس کے بعض ریپبلکن ارکان کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن نے پابندیوں میں نرمی اور تعمیرِ نو کے لیے ممکنہ مالی معاونت کی صورت میں ایران کو حد سے زیادہ رعایتیں دے دی ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی معاشی رعایت سے قبل امریکی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’’جیسے جیسے ایران مثبت رویہ اختیار کرے گا، معاشی ریلیف میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، اور اگر وہ اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹا تو یہ سہولتیں واپس بھی لی جا سکتی ہیں۔‘‘

دریں اثنا، ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ ایلچی نے امریکی قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہے۔ ساتھ ہی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے حالیہ بیانات کو بھی براہِ راست مذاکرات کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا عبوری معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کو اہم اور دیرینہ تنازعات کے مستقل حل کے لیے 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدہ طے کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔