مقبوضہ کشمیر کی خاتون کی ہندوستانی فوج سے مدد کی اپیل، مظاہرین ہندوستان جیسے دشمن ، پاکستانی وزیر دفاع

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-07-2026
’’خدارا ہمارا ساتھ دیں‘‘: مقبوضہ کشمیر کی خاتون کی ہندوستانی فوج سے مدد کی اپیل، مظاہرین ہندوستان جیسے دشمن ، پاکستانی وزیر دفاع
’’خدارا ہمارا ساتھ دیں‘‘: مقبوضہ کشمیر کی خاتون کی ہندوستانی فوج سے مدد کی اپیل، مظاہرین ہندوستان جیسے دشمن ، پاکستانی وزیر دفاع

 



مظفرآباد/نئی دہلی: پاکستان کے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر سے سامنے آنے والی ایک خاتون کی ویڈیو اپیل نے خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کر دیا ہے۔ خاتون نے ہندوستانی فوج سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز، پولیس اور فوج نے ’’ہمارے بچوں اور لوگوں کو شہید کر دیا‘‘ اور ’’کشمیر خون سے بھرا ہوا ہے‘‘۔

خاتون نے اپنی جذباتی اپیل میں کہا، ’’میری انڈیا کی فورسز سے درخواست ہے کہ پلیز، خدارا ہمارا ساتھ دیں۔ اگر انڈیا کی فورسز بھی مجھے سن رہی ہیں تو خدارا ہمارا ساتھ دیں۔ پاکستان کی فورسز، پولیس اور آرمی نے ہمارے بچوں اور لوگوں کو شہید کر دیا ہے۔ ہمارا کشمیر اس وقت خون سے بھرا ہوا ہے، ہمارے کشمیر میں بہت ظلم ہو رہا ہے۔ خدارا ہماری آواز بنیں۔‘‘

یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں احتجاج کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اور صورتحال پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 20 تک پہنچنے کا دعویٰ

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے مطابق 27 جولائی سے جاری جھڑپوں میں کم از کم 20 کارکن ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ تنظیم کا الزام ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے احتجاجی مارچ کے شرکا پر فائرنگ کی۔تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر اختلاف کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تصدیق لاشوں کی برآمدگی، سرکاری ریکارڈ اور پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

JAAC کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ پیر کو راولا کوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کے دوران تقریباً ایک درجن کارکن ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے کارکن غیر مسلح تھے اور ان کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں، جبکہ پولیس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مظاہرین پر جدید ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع کا سخت بیان

دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ہندوستان کے برابر قرار دیا ہے۔خواجہ آصف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’مظاہرین کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ میں انہیں ہندوستان کے ساتھ ایک ہی زمرے میں رکھتا ہوں اور انہیں پاکستان کا دشمن سمجھتا ہوں۔‘‘

وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

رانا ثناء اللہ کا 38 مطالبات کا دعویٰ

ادھر وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ JAAC کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کی اور اپنے 38 مطالبات پیش کیے۔ان کا الزام ہے کہ مظاہرین طاقت کے ذریعے مظفرآباد اور میرپور پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور موجودہ احتجاج کو انہوں نے ’’ہندوستان جیسے حملے‘‘ سے تشبیہ دی۔ تاہم انہوں نےسیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کسی ہلاکت کی تردید کی۔دوسری جانب JAAC کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک کے بنیادی مطالبات میں سیاسی نمائندگی، حکومتی معاملات میں شفافیت اور خطے کے عوام کے حقوق سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔

میرپور میں کاروباری سرگرمیاں متاثر

تشدد اور احتجاج کے باعث میرپور میں دکانیں اور بازار بند رہے۔ خطے میں جاری بدامنی کے دوران حکام کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پاکستان میں JAAC کے احتجاج کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس صورتحال نے خطے میں اطلاعات کی آزادانہ ترسیل اور زمینی حقائق تک رسائی کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

انتخابات بھی تنازع کی زد میں

پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات بھی تنازع کا شکار ہیں۔ 27 جولائی کو پہلے مرحلے میں 13 نشستوں پر انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان مسلم لیگ ن نے نو نشستیں حاصل کیں۔تاہم انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران تشدد اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی مسلم لیگ ن پر دھاندلی کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے انتخابات کے بائیکاٹ کے باعث یہ مقابلہ بنیادی طور پر مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان رہا۔

ہندوستان نے انتخابات کو ’’قبضہ چھپانے کی کوشش‘‘ قرار دیا

ہندوستان نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انتخابات کو پاکستان کی جانب سے اپنے ’’غیر قانونی قبضے‘‘ اور خطے میں انسانی حقوق کی ’’سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کو چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ہندوستانی وزارت خارجہ کےترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مکمل علاقے، بشمول وہ خطے جو اس وقت پاکستان کے غیر قانونی اور جبری قبضے میں ہیں، ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج پاکستان کی جانب سے معاشی استحصال، عوام کے بنیادی حقوق سے انکار و انتظامی جبر کا براہ راست نتیجہ ہے۔

مذاکرات کی کوششیں ناکام

JAAC نے 9 جون سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ خطے کی سیاست میں مبینہ مداخلت کے ذریعے من پسند سیاسی قیادت کو اقتدار میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔حکومت اور JAAC کے درمیان احتجاج ختم کرانے کے لیے مذاکرات بھی ہوئے، تاہم اب تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب تازہ کشیدگی کے دوران ہلاکتوں، زخمیوں اور گرفتاریوں کے حوالے سے مختلف فریقین کے دعوے سامنے آ رہے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق مشکل ہے۔

ایسے میں مقبوضہ کشمیر کی خاتون کی ہندوستانی فوج سے مدد کی اپیل اور پاکستانی وزیر دفاع کا مظاہرین کو ’’دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے انکار، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی شدت کو نمایاں کرتا ہے۔ صورتحال کے باعث عام شہریوں کی سلامتی، انسانی حقوق اور سیاسی مذاکرات کے امکانات پر تشویش مزید گہری ہو گئی ہے۔