پیرس : فرانس کے شہر ایویان میں جاری جی سیون اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان 17 جون کو متوقع دوطرفہ ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز، توانائی کے شعبے میں تعاون اور مجوزہ تجارتی معاہدے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک ایک طویل المدتی توانائی شراکت داری کے قیام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین کو درپیش خطرات اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر غور آئیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہند۔امریکا تجارتی معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں مذاکرات مکمل ہونے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک فروری میں ایک سالہ مذاکرات کے بعد عبوری تجارتی معاہدے تک پہنچے تھے۔
امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق مودی اور ٹرمپ کی ملاقات میں مجوزہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز میں جاری غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین تجارتی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار دنیا بھر میں منتقل کی جاتی ہے۔
منگل کو جی سیون کے 52ویں اجلاس کے آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری تجارت میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں پیش رفت خوش آئند ہے تاہم حالیہ تنازع نے خطے کے دوست ممالک میں جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
مودی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری تجارت میں خلل نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے جبکہ کئی ہندستانی شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
وزیر اعظم نے عالمی سمندری تجارت سے وابستہ ملاحوں کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ سمندری راستوں کا محفوظ رہنا اور ملاحوں کا بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مودی کا بیان خلیج عمان میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعے کے پس منظر میں سامنے آیا جس میں ایرانی تیل لے جانے والے ایک ٹینکر پر امریکی کارروائی کے نتیجے میں تین ہندستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ہندستان جی سیون اجلاس میں شراکت دار ملک کے طور پر شریک ہے اور یہ آؤٹ ریچ عمل میں اس کی تیرہویں شرکت ہے۔