اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے حالیہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں پچھلے چند سالوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے بتایا کہ مالی سال 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
خرم شہزاد نے کہا کہ اس اضافہ کو پاکستان کو درپیش مختلف بحرانوں کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 2019 کے بعد کورونا وائرس کی وبا، عالمی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی نے معیشت پر گہرا اثر ڈالا۔ مزید برآں، 2022 اور 2025 کے شدید سیلابوں نے دیہی علاقوں میں روزگار، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے غربت میں اضافے کا عمل مزید تیز ہوا۔
خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تعاون سے تین اصلاحاتی پروگرام کیے، جو طویل مدتی فوائد کے لیے تھے مگر قلیل مدتی دباؤ کا سبب بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہات ماحولیاتی بحرانوں اور بڑھتی لاگت سے متاثر ہوئے جبکہ شہری علاقے مہنگائی اور سست معیشت کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام، صوبائی اخراجات اور ہدف شدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔