اسلام آباد:عمران خان کی جیل میں بگڑتی ہوئی صحت کی خبروں سے ایک بار پھر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لندن میں مقیم ان کے دونوں بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ ان کے والد کی دائیں آنکھ کی بینائی کافی حد تک متاثر ہو چکی ہے اور جیل انتظامیہ انہیں مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کر رہی۔ انہیں خدشہ ہے کہ حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور ان کے والد کو جان سے بھی مارا جا سکتا ہے۔
عمران خان کے بیٹوں نے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ ویزا کے لیے درخواست دی تھی، مگر اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ اگر وہ پاکستان آئے تو عمران خان کی صورتحال پر عالمی توجہ مزید بڑھ جائے گی۔ سلیمان اور قاسم نے کہا، ہمارے ابا کی صحت روز بروز خراب ہو رہی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ انہیں صحیح علاج نہیں مل رہا۔”
قاسم نے جذباتی انداز میں کہا، “اتنے عرصے تک ان سے دور رہنا بہت مشکل ہے۔ ہماری سب سے بڑی فکر ان کی صحت ہے، لیکن ان کی آزادی، انسانی حقوق اور منصفانہ سماعت بھی اہم مسائل ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا کہ جیل میں ان کی دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے بینائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے جبکہ 85 فیصد نقصان ہو چکا ہے۔
اکتوبر 2025 تک ان کی نظر معمول کے مطابق (چھے بٹا چھے وژن) تھی، لیکن اس کے بعد دھندلا پن، آنکھ سے پانی آنا اور تکلیف شروع ہوئی۔ علاج کے باوجود بہتری محدود رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے 12 فروری کو ماہرین سے معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا۔ پیر (16 فروری 2026) کو میڈیکل بورڈ نے رپورٹ دی کہ علاج (انجیکشن سمیت) کے بعد سوجن کم ہوئی ہے اور بینائی میں کچھ بہتری آئی ہے۔ تاہم بیٹوں نے اس رپورٹ پر شبہ ظاہر کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جمعرات کو (ستمبر کے بعد پہلی بار) فون پر بات کی، جس میں وہ مایوس دکھائی دیے اور بتایا کہ کئی ماہ تک آنکھ کے علاج سے انکار کیا جاتا رہا۔ عمران خان کے بیٹوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کو بہتر طبی سہولت دی جائے، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، نجی ڈاکٹروں سے معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے اور دونوں بیٹوں کو فوری طور پر پاکستان کا ویزا جاری کیا جائے۔
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اپریل 2022 میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ان پر متعدد مقدمات قائم کیے گئے، جنہیں پاکستان تحریکِ انصاف سیاسی سازش قرار دیتی ہے۔ نومبر 2022 میں ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا، جس کے بعد سے بیٹوں نے انہیں نہیں دیکھا۔ جیل میں وہ طویل عرصے سے تنہائی میں رکھے گئے ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کا نام یا تصویر نشر کرنے پر پابندی ہے اور گرفتاری کے بعد سے صرف ایک عوامی تصویر سامنے آئی ہے۔