پاکستان: عمران خان اندھے ہوسکتے ہیں: رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کی گئی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-02-2026
پاکستان: عمران خان اندھے ہوسکتے ہیں: رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کی گئی
پاکستان: عمران خان اندھے ہوسکتے ہیں: رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کی گئی

 



اسلام آباد٠پاکستان: پاکستانی سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی،سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں صحت اور سہولتوں سے متعلق جمع کرائی گئی "فرینڈ آف کورٹ" (Amicus Curiae) بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ پچھلے 3 سے 4 ماہ قبل ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی بالکل نارمل تھی۔ اس کے باوجود جیل حکام کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان نے کئی بار جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو دھندلا نظر آنے اور نظر میں کمی کی شکایت کی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد میں پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف نے ان کی دائیں آنکھ کا معائنہ کیا، جہاں خون کے لوتھڑے کی موجودگی کی وجہ سے بینائی شدید متاثر ہوئی تھی۔ علاج کے باوجود ان کی آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے ذاتی ڈاکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان یا ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں فوری طور پر ان کی آنکھ کا مزید معائنہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی جیل کی حالت کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ ان کے سیل میں CCTV کیمروں کی موجودگی کے باوجود، کسی بھی کمرے یا سیل میں کیمرا نصب نہیں ہے۔

جیل حکام نے ان کے تحفظ اور سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ عمران خان کی روزانہ کی روٹین میں صبح ناشتے کے بعد قرآن کی تلاوت اور ورزش شامل ہے، جس میں ایکسرسائز بائیک اور ڈمبلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کی جیل میں سیل کی صفائی اور کھانے کی حالت میں بھی بہتری کی گنجائش پائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان کے سیل کے کچن کی صفائی کے بارے میں بھی سپرنٹنڈنٹ جیل کو آگاہ کیا گیا۔

رپورٹ میں عمران خان کے سیل کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ سیل نمبر 2 میں موجود عمران خان کے پاس 32 انچ کا خراب ٹی وی، ایک بیڈ، ایک چھوٹا ریک، 4 تکیے، 2 کمبل، اور 5 جوڑی جوتے تھے۔ سیل میں موجود سامان میں کتابیں، شیو جیل، ٹوائلٹ آئٹمز، اور دیگر ذاتی سامان بھی شامل ہیں۔

سیل کے ارد گرد کے علاقے کی نگرانی 5 CCTV کیمروں سے کی جاتی ہے، اور سیکیورٹی اہلکار 24 گھنٹے تعینات ہیں۔ ان کے سیل میں ایک بڑی بیرونی دیوار ہے جس پر خاردار تاریں نصب ہیں، اور 4 سیکیورٹی اہلکار سیل کے اندر موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کتابیں فراہم کی جائیں، کیونکہ انہیں جیل میں کسی قسم کی تفریحی سرگرمیوں یا معلوماتی مواد کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ نے جیل حکام کی جانب سے عمران خان کی صحت کی دیکھ بھال اور جیل سہولتوں پر تشویش ظاہر کی ہے، اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں فوری طور پر آنکھوں کے ماہرین تک رسائی دی جائے تاکہ ان کی صحت میں مزید خرابی نہ ہو۔