اسلام آباد: دنیا بھر کے 21 سابق اور نامور کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر سابق وزیراعظم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے طبی معائنے اور قانونی حقوق سے متعلق اہم مطالبات کیے ہیں۔اتوار کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں سابق کپتانوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق عمران خان کا مکمل اور آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے اور ان کے بنیادی قانونی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔سابق کرکٹ کپتانوں کا پہلا مطالبہ عمران خان کے آزادانہ طبی معائنے سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالجین پر مشتمل طبی بورڈ کو ان کا مکمل اور غیر جانب دارانہ معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی سے متعلق اطلاعات کا فوری اور تفصیلی طبی جائزہ لیا جائے۔
خط میں عمران خان کی اہل خانہ سے ملاقاتوں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ سابق کپتانوں نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے بحال کی گئی ہفتہ وار ملاقاتوں کا سلسلہ کسی انتظامی تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر باقاعدگی سے جاری رہنا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ طبی معائنے کے بعد طبی بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ علاج فوری طور پر فراہم کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ 73 سالہ عمران خان تین سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں۔ ان کے مقدمات سے متعلق سیاسی اور قانونی اختلافات اپنی جگہ لیکن عدالت کے حکم کے مطابق ان کے طبی معائنے اور علاج کو یقینی بنانا ایک بنیادی انسانی تقاضا ہے۔
سابق کپتانوں نے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں قائم ہونے والا تعلق سیاسی سرحدوں سے بالاتر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے کا وقار اور انصاف کے ساتھ جلد حل تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی نظر میں ایک منصفانہ قدم ہوگا۔خط میں چھ ماہ قبل 14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں عمران خان کے ساتھ انسانی ہمدردی کا برتاؤ کرنے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
تازہ خط میں سابق کپتانوں نے لکھا کہ انہوں نے گزشتہ خط سیاست دانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے لکھا تھا۔ ان کے مطابق کرکٹ کے میدان میں قائم ہونے والا یہ رشتہ ان سرحدوں اور تنازعات سے بالاتر ہے جو اکثر ممالک کو تقسیم کرتے ہیں۔خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل اتھرٹن الیکس بلیک ویل ایلن بارڈر مائیکل بئیرلی گریگ چیپل این چیپل بلنڈا کلارک سر ایلسٹائر کک سنیل گواسکر لی جیرمون ایڈم گلکرسٹ ڈیوڈ گوور کم ہیوز ناصر حسین سر کلائیو لائیڈ کپل دیو ارجنا راناتنگا اینڈریو اسٹراس دلیپ وینگسارکر سٹیفن واہ اور جان رائٹ شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم حکام نے جمعے کو سرکاری ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا۔عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ سال کے آخر میں ایک مقدمے میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عمران خان کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف قائم مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔
عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ سیاسی بحران کے دوران تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں بدعنوانی اور دیگر الزامات سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے جنہیں وہ اور ان کی جماعت تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج شروع ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے اور اس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔عمران خان نے 1971 سے 1992 کے دوران پاکستان کے لیے 88 ٹیسٹ اور 175 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے۔ انہوں نے 1992 میں پاکستان کو اس کا واحد ایک روزہ عالمی کپ بھی جتوایا تھا۔