اسلام آباد/کابل/نئی دہلی
ایک بار پھر پاکستان پر کافر کا بھوت سوار ہوا ہے ۔ اس مرتبہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کے عروج کو دیکھ کر پاکستانی فوج نے کافر کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے ۔ افغانستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر وہ ہندوستان کاساتھ دے رہا ہے تو غلط کررہا ہے کیونکہ مومن کو مومن کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ کافر کا ۔ ایک بار پھر پاکستانی فوج نے مذہب کا کارڈ کھیلنے کے ساتھ کافر کے لفظ کے غلط استعمال کی کوشش کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے سامنے افغانستان سے خود کو دوست ثابت کرنے کے لیے مذہبی جذبات کریدنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے ۔
دراصل پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر پاکستان کی عسکری قیادت کے مذہبی اور سفارتی بیانیے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ کریں اور مزید کہا کہ "اگر آپ کافروں سے دوستی کرتے ہیں تو آپ ہماری طرح نہیں ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا یہ بیان افغانستان کے وزیر زراعت، آبپاشی اور حیوانات مولوی عطاء اللہ عمری کے اس تبصرے کے جواب میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ ہندوستان کے دوران کہا تھا کہ افغانستان اور ہندوستان کے عوام کے درمیان تاریخی اور تہذیبی رشتہ بہت مضبوط ہے اور "ہمارا ڈی این اے ایک ہی ہے۔افغان وزیر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ کافر دوست نہیں ہیں بلکہ یہ تو ان سے بھی بڑھ کر اپنے ڈی این اے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو پاکستان کے اس دیرینہ نظریاتی مؤقف کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس میں غیر مسلموں اور بالخصوص ہندوستان کے بارے میں سخت زبان استعمال کی جاتی رہی ہے۔
افغان وزیر زراعت نے اپنے محکمے اور افغانستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ افغانستان کی 80 فیصد آبادی لائیو سٹاک، زراعت اور آبپاشی کے شعبے سے وابستہ ہے۔انہوں نے ہندوستان کی زرعی ترقی اور ٹیکنالوجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان کسانوں کو بھی نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ’افغان عوام کو مزید جدید اور باصلاحیت بنانے کے لیے، ہمیں ان روایتی طریقوں اور پرانی ٹیکنالوجی کو بدلنا ہو گا جو ہم اب تک استعمال کر رہے تھے۔طالبان وزیر نے کہا تھا کہ ’ہمارے دوستی کے یہ تعلقات آج، کل یا پرسوں کے نہیں ہیں، بلکہ یہ قدیم زمانے سے ہیں اور سینکڑوں سال پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان باتوں سے پاکستان کے سینے پر سانپ لوٹ گئے ۔ جس نے اب کافر کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر افغانستان اس بات سےواقف ہے کہ برے سے برے وقت میں ہندوستان نے ہی اس کا ساتھ دیا ہے
DGISPR says, "Do not make friends with kafirs."
— OsintTV 📺 (@OsintTV) August 1, 2026
Earlier, Asim Munir said, "We are different from Hindus."
If this is the message from the top military Leadership, imagine the fear of minorities living in Pakistan. pic.twitter.com/IPXmtzZHaF
عاصم منیر کے نقش و قدم پر
اس سے قبل اپریل 2025 میں اسلام آباد میں منعقدہ اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی کہا تھا کہ "ہم زندگی کے ہر پہلو میں ہندوؤں سے مختلف ہیں۔ ہمارا مذہب، ہماری تہذیب، ہماری روایات، ہمارے خیالات اور ہمارے عزائم سب الگ ہیں۔" انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی نئی نسل کو پاکستان کے قیام کی کہانی سے آگاہ رکھیں تاکہ وہ اپنی شناخت نہ بھولیں۔ اسی خطاب میں انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ" قرار دیتے ہوئے ہندوستان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔
ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری
دوسری جانب گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری دیکھی گئی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھی ہندوستان نے افغان عوام سے اپنے روابط منقطع نہیں کیے۔ نئی دہلی نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانی بنیادوں پر افغانستان کو مسلسل امداد فراہم کی۔
ہندوستان نے افغان عوام کے لیے ہزاروں ٹن گندم، ضروری ادویات، ویکسین، طبی سامان اور دیگر انسانی امداد بھیجی۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں بھی تعاون جاری رکھا۔ طالبان حکومت کے نمائندوں اور ہندوستانی حکام کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے بھی ہوئے، جن کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور افغان عوام کی ضروریات پوری کرنا تھا۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کے بیانیے پر سوالات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے تازہ بیان سے ایک مرتبہ پھر اس نظریاتی سوچ کی جھلک ملتی ہے جس میں مذہبی شناخت کو خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس قسم کی بیان بازی نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتی ہے بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب افغانستان اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرتے ہوئے ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے میں پاکستان کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر اپنی تشویش کا اظہار سمجھے جا رہے ہیں۔