نئی دہلی : عمان کی دقم بندرگاہ پر لنگر انداز ایک بحری جہاز میں سوار 35 سالہ ہندوستانی ملاح نشانت اُرتھاناتھن کے انتقال کی خبر نے سمندری برادری کو غمزدہ کر دیا ہے۔ مسقط میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق مرحوم طبی عوارض میں مبتلا تھے اور ان کا انتقال اس وقت ہوا جب ایم ٹی سیلیسٹیئل نامی ٹینکر دقم بندرگاہ پر موجود تھا۔
اطلاعات کے مطابق 11 جون کو انتقال کے بعد مرحوم کی میت دو روز سے زائد عرصے تک جہاز پر رہی۔ مناسب سرد خانے کی سہولت نہ ہونے کے باعث عملے کو میت کے تحفظ کے لیے عارضی انتظامات کرنے پڑے۔ سفارت خانے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ میت کو جلد از جلد ہندوستان منتقل کرنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق میت دو روز سے زائد عرصے تک جہاز پر مناسب ریفریجریشن کے بغیر موجود رہی۔ فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ عملہ میت کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈے پانی کی بوتلوں کا استعمال کر رہا تھا تاکہ گلنے سڑنے کے عمل کو سست کیا جا سکے، جس سے صحت کے خطرات بھی پیدا ہو رہے تھے۔
The Mission has learnt of an incident involving an Indian Flagged Mechanised Sailing Vessel Virat 1, off the coast of Oman, reportedly embarked with 14 Indian crew. Search and Rescue is being coordinated with the Omani authorities and vessels in vicinity of the incident.
— India in Oman (Embassy of India, Muscat) (@Indemb_Muscat) June 14, 2026
دریں اثنا عمانی ساحل کے قریب ایک اور ہندوستانی پرچم بردار جہاز کو حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ مسقط میں ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق وراٹ ون نامی جہاز، جس پر 14 ہندوستانی ملاح سوار تھے، انجن میں فنی خرابی پیدا ہونے کے بعد مشکلات سے دوچار ہو گیا۔
صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے تمام ملاح بحفاظت لائف رافٹ میں منتقل ہو گئے، جس کے بعد عمانی حکام اور قریبی بحری جہازوں کی مدد سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ سفارت خانے کے مطابق تمام سرگرمیوں کی نگرانی عمانی حکام کی جانب سے کی جا رہی ہے اور عملے کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کو انجن میں فنی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث وہ سمندر میں مشکلات سے دوچار ہو گیا۔ صورتحال کے پیش نظر عملے نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے بحفاظت لائف رافٹ میں منتقل ہو کر اپنی جانوں کو محفوظ بنایا۔ عمانی حکام کی نگرانی اور رابطہ کاری میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ قریب موجود بحری جہازوں کی مدد سے عملے کے ارکان کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ تمام صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب چند روز قبل عمان کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے میں تین ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت نے تشویش میں اضافہ کر دیا تھا۔ اس پس منظر میں سمندری راستوں کی سلامتی اور ملاحوں کے تحفظ کا مسئلہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کے تجارتی بحری بیڑوں میں تین لاکھ سے زائد ہندوستانی ملاح خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے ہندوستانی ملاحوں کی تعداد اٹھارہ ہزار سے زیادہ ہے۔