نائن الیون: دہشت گردی جس کی سب سے بڑی قیمت مسلمانوں نے چکائی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 10-09-2021
قیامت تھی قیامت
قیامت تھی قیامت

 

 

                         نائن الیون کے 20 سال بعد

منصور الدین فریدی: نئی دہلی 

جی ہاں !11 ستمبر 2001ایک ایسا دن تھا جس نے دنیا کو بدل دیا تھا۔ دنیا کی سوچ کو بدل دیا ۔ اس دن دنیا جو مناظر دیکھے اس پر آج 20 سال گزر جانے کے باوجود یقین نہیں آتا ہے مگر جو ہوا وہ حقیقت تھا،دنیا کے لیے ایک زخم تھا اور انسانیت کے لیے ناسور۔

دو مسافر بردار جہازوں کو ہائی جیک کرکے خودکش انداز میں امریکی شہر نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت سے ٹکرایا گیا، تیسرے جہاز نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے دفتر کو نشانہ بنایا جبکہ وائٹ ہاؤس کا رخ کرنے والے چوتھے جہاز کو امریکی لڑاکا طیاروں نے پنسلوانیا کے قریب مار گرایا۔

دو مسافر بردار جہازوں نے دنیا کی دو بلند ترین عمارتوں کو پہلے آگ کا گولہ اور پھر دھوئیں کا غبار بناکر غائب کردیا تھا۔ دنیا نے دہشت گردی کے نام پر ایسا حملہ دیکھا جس کے بارے میں اس سے قبل تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔

جس میں تقریباً تین ہزار افراد مارے گئے تھےجبکہ اس کا الزام امریکہ نے القاعدہ پرعائد کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو ان کا ماسٹرمائنڈ قرار دیا تھا۔

اس ایک حملے نے جہاں دنیا میں دہشت گردی کی شکل بدل دی، دنیا کے سامنے دہشت گردی کوجن کی شکل میں لا کھڑا کیا ۔ وہیں دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے دو دہائیوں کا سفر طے کرلیا ۔

awaz

 

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے خلاف 1980 کی دہائی میں ہونے والی جنگ سے جنم لینے والی تنظیم 'القاعدہ' کو اسامہ بن لادن کی قیادت میں امریکہ کی پشت پناہی حاصل تھی لیکن سویت یونین کے بکھراو کے ساتھ القاعدہ امریکہ کے لیے خطرہ بنتی گئی اور بالآخر اس کے دہشت گردوں نے 11 ستمبر 2001 کے ہولناک حملے کیے۔

اسلامو فوبیا کا طوفان

ان حملوں کے بعد امریکہ کی قیات میں مغربی ممالک کے فوجی اتحاد 'نیٹو' نے افغانستان پر حملہ کیا۔ جس کے بعد امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا آغاز ہوا تھا،جس کے خاتمہ کا اعلان اب 31 اگست کو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ کیا گیا ہے ۔

مگر اس حملے اور اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اگر کسی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تو وہ مسلمان تھے۔

اس کی سب سے بڑی قیمت مسلمانوں کو قدم قدم پر چکانی پڑی ہے۔ آج اس حملے کو بیس سال گزر گئے لیکن اسلام کے نام پر دہشت گردی آج بھی عالم اسلام کے لیے ذلت کا سامان بن گئی ہے۔

آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کسی مخصوص چیز یا حالت کو بڑھا چڑھا کر دکھا کر اس سے جنم لینے والے بے تکے خوف کو فوبیا کہتے ہیں۔ امریکہ میں ان حملوں کے بعد مغرب میں مسلمانوں اور اسلام کا خوف، جیسے اسلامو فوبیا کہتے ہیں، پھیل گیا۔

awaz

 

دنیا بدل گئی ہے

ہم اس بات کو مان سکتے ہیں کہ اس حملے کے بعد دنیا کا چہرہ ہی بدل گیا۔ آج ہم اس دنیا میں نہیں رہتے جس میں 2001 سے پہلے رہا کرتے تھے۔ ستمبر 2001 کے اثرات دنیا بھر میں محسوس ہوئے تو کیا یہ کہنا غلط ہے کہ نائن الیون کے بعد دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا؟

 امریکہ کے تعلق سے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نسل پرستی اور اسلامو فوبیا میں امریکہ کا ریکارڈ ہمیشہ سے خراب رہا ہے۔ آئے دن امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آتا رہتا ہے۔

 نائن الیون کے بعد امریکہ سمیت پوری دنیا میں اسلامو فوبیا ابھر کر سامنے آیا۔ یہاں تک کے میڈیا آرگنائزیشنز میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانات سامنے آئے۔ مسلمانوں کی عام سوچ یہی ہے کہ اس واقعہ نے جہاں دنیا کو بدل دیا وہیں مسلمانوں کے تئیں دنیا کے رویہ کو بھی بدل ڈالا۔

کیا کہتے رہے سروے

 اس حقیقت کی ترجمانی گیلپ کا سروے ہے جس کے مطابق 52 فیصد امریکی اور 48 فیصد کنیڈین یہ مانتے ہیں کہ مغرب میں مسلمانوں کی عزت نہیں کی جاتی۔

 گیلپ سروے 2008 کا ڈیٹا یہ کہتا ہے کہ ہر چار میں سے ایک شخص کے مطابق مسلمانوں کے ساتھ صحیح برتاو نہیں کیا جاتا۔

سینٹر فار امریکن پراگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق مطابق امریکہ میں غلط معلومات مہیا کرنے والے گروہ ہیں جن میں ماہرین جان بوجھ کر اسلام کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرتے ہیں اور یہی وجہ بنتی ہے مسلمانوں کے خلاف تعصب پیدا کرنے کی۔

 رائے عامہ کا جائزہ لینے والے ادارے پیو ری سرچ سینٹر کے مطابق سال 16-2015 کے دوران مسلمانوں کے خلاف تشدد کے 127 ایسے کیس سامنے آئے جو ایف بی آئی کو رپورٹ کیے گئے۔ 2001 کے بعد امریکہ میں سب سے زیادہ کیسز تھے۔ اس سے قبل 2001 میں 93 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ عام نہیں خاص بھی بنے نشانہ قابل غور بات یہ ہے کہ اس اسلامو فوبیا کا شکار صر ف عام لوگ نہیں بنے بلکہ نامور ہستیاں بھی اس کا شکار ہوئیں۔

یاد رہے کہ یہ اگست 2009 کا واقعہ ہے جب امریکی ریاست نیو جرسی کے نیوآرک ایئرپورٹ پر بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان کو حراست میں لے کر ان سے دو گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔ شاہ رخ کے مطابق انہیں ان کے مسلم نام کی وجہ سے پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، جس پر ہندوستان نے امریکہ سے وضاحت بھی طلب کی۔ بالی وڈ کنگ کے ساتھ بعد میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آئے۔9/11 کا اثر یقیناً دنیا بھر کے مسلمانوں بشمول امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی ہوا۔

awaz

تعصب اور امتیاز بر قرار ہے 

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اوہائیو کی آؤٹ ریچ ڈائریکٹر آمنہ برہومی نے کہا کہ دو دہائیوں بعد بہت سے تعصبات برقرار ہیں۔ برہمی نے وضاحت کی کہ پالیسیوں میں مسلم مخالف امتیاز اب بھی موجود ہے۔ "خفیہ واچ لسٹیں اب بھی موجود ہیں۔

مسلمانوں کے بارے میں اکثر عام شہری ہونے کی بجائے قومی سلامتی کے فریم ورک سے بات کی جاتی ہے جو صرف اپنی عام امریکی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ تقریبا 60 فیصد امریکی مسلمانوں نے 2016 سے 2020 کے درمیان مذہبی امتیاز کا سامنا کرنے کی اطلاع دی۔

تاہم حال ہی میں جاری ہونے والے امریکی مسجد رہنماؤں کے سروے میں پانچ میں سے ایک سے بھی کم لوگوں نے محسوس کیا کہ امریکی معاشرہ اسلام سے دشمنی رکھتا ہے۔ 2007 کے مقابلے میں اب امریکہ میں 15 لاکھ زیادہ مسلمان ہیں جو مجموعی امریکی آبادی کا 1.1 فیصد ہیں۔

awaz

 دہشت گردی اسلامی نہیں

 بد ترین دہشت گردی کو اسلامی دہشت گردی کا نام دیا گیا۔جس کا ذمہ دار القاعدہ تھا۔ جس کے ایک قدم نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کی۔ قانون کے شکنجے تیار کرا دئیے ۔ مشکوک بنا دیا۰،لباس اور حلیہ کے بجائے نام ہی کافی ہوگیا ۔

حملے کے بعد امریکہ میں جو کارروائی ہوئی، جو قوانین بنے چاہے وہ سفر کے لحاظ سے ہو چاہے وار آن ٹیرر کے لحاظ سے یا جنگوں کے لحاظ سے، ان سب کا ایک جیسا اثر ہوا، کیونکہ ان میں سے بہت سوں کا ہدف اسلام اور مسلمان بن گئے۔

جو خوف کی فضا پھیلی اس میں جو انگلیاں اٹھیں وہ سب سے زیادہ مسلمانوں پر اٹھیں اور اس کا سایہ اب بھی ہے۔ نہ صرف ان مسلمانوں پر جو امریکہ میں رہتے ہیں بلکہ جو امریکہ سے باہر ہیں ان پر بھی ہے۔

 آج جب دنیا انسانی تاریخ کے ایک خوفناک دہشت گردانہ حملے کی 20 ویں برسی بنا رہی ہے،دنیا کے مسلمانوں میں اس بات کا احساس ہے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی نے سب سے زیادہ نقصان انہیں ہی پہنچایا ہے۔ اس دہشت گردی کو ہم کسی قیمت پر قبول نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی حمایت۔