نائجیریا: توہین مذہب کے جرم میں ایک شخص کو 24 برس قید کی سزا

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 9 Months ago
نائجیریا: توہین مذہب کے جرم میں ایک شخص کو 24 برس قید کی سزا


کانو : گزشتہ دو برسوں سے نظر بند محمد مبارک بالا نے توہین مذہب کے 18 الزامات کا اعتراف کر لیا تھا۔ ملک میں سرگرم انسانی حقوق کے کارکنان نے تاہم اس سزا کو 'نائجیریا میں انسانی حقوق کے لیے ایک افسوسناک دن' قرار دیا ہے۔ نائجیریا کی ایک عدالت نے پانچ اپریل منگل کے روز ایک شخص مبارک بالا کو توہین مذہب کے جرم میں 24 برس قید کی سزا سنائی۔

نائجیریا کی ریاست کانو میں جج فاروق لاوان نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ''یہ عدالت محمد مبارک بالا کو 24 برس قید کی سزا سناتی ہے... مقدمے کی سماعت کے دوران قید میں انتظار کے طور پر جو وقت گزرا، اس کا بھی خیال رکھتے ہوئے، اسے بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

مبارک بالا پہلے ایک مسلمان تھے، پھر مذہب ترک کر دیا اور نائیجیریا کی 'ہیومنسٹ ایسوسی ایشن' میں شامل ہوئے، جس کے وہ صدر ہیں۔ اپریل 2020 میں حکام نے سوشل میڈیا پر ان کی مبینہ اسلام مخالف اور توہین آمیز پوسٹس کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

'ہیومنسٹ انٹرنیشنل' تنظیم کے ایک رکن لیو ایگوے نے عدالتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ''نائیجیریا میں انسانیت پسند برادری مبارک بالا کو 'توہین رسالت' کے جرم میں سزا سنائے جانے پر پوری طرح حیران ہے۔ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ 21ویں صدی میں ایک عدالت فیس بک پر بے ضرر پوسٹ کے لیے کسی بھی فرد کو مجرم قرار دے سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا، ''نائجیریا میں آج کا دن انسانیت، انسانی حقوق اور آزادی کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔ مبارک بالا کو سنائی گئی سزا آزادی اظہار اور مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ ہم نائجیریا کے حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عدالت فریب سے کام نہ لے۔''

شرعی عدالت میں پھانسی کی سزا ہو سکتی تھی مغربی افریقی ملک نائیجیریا کی شمالی ریاست کانو میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مبارک بالا نے فیس بک پوسٹس میں پیغمبر اسلام اور مذہب اسلام، دونوں کی توہین کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی ان یہ پوسٹس ''امن عامہ کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتی تھیں۔مبارک بالا ایک طویل عرصے سے اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے رہے تھے، تاہم منگل کے روز عدالت میں انہوں نے توہین مذہب کے 18 الزامات کا اعتراف کر کے اپنی قانونی ٹیم کو بھی حیران کر دیا۔

اس موقع پر جج نے مقدمے کی سماعت روک دی تاکہ وکیل کو بالا سے بات کرنے کا موقع مل سکے اور اس بات کو بھی، ''یقینی بنیا جا سکے کہ وہ کسی دباو یا دھمکی کے زیر اثر اس طرح کے بیانات تو نہیں دے رہے ہیں۔'' اور یہ کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اس کے مضمرات سے وہ اچھی طرح سے واقف ہیں۔بالا نے عدالت کو بتایا کہ وہ عدالت سے ''رحم اور نرمی کی التجا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کی، ''پوسٹس کا مقصد تشدد کو جنم دینا نہیں تھا، تاہم میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ تشدد پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ میں مستقبل میں اس کا خیال رکھوں گا۔

ان کے حامیوں نے نائجیریا کے حکام پر ان کے ساتھ زیادتی کرنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے، ریاست کے مقاصد پر سوال اٹھائے تھے۔ تقریباً دو برس کی نظربندی کے دوران، بالا کو مبینہ طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا، جہاں ان کی صحت کی دیکھ بھال کا بھی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق انہیں، ''مسلمانوں کے طریقے سے عبادت کرنے'' پر بھی مجبور کیا گیا تھا۔ کانو میں حکام کا اس بات پر اصرار ہے کہ مقدمے کی سماعت منصفانہ تھی اور بالا کو اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔ اس مقدمے کی سماعت ایک سیکولر عدالت میں ہوئی۔ اگر اس کیس کا مقدمہ نائجیریا کی کسی اسلامی شرعی عدالت میں چلتا تو انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔