کھٹمنڈو: نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سکیورٹی فورسز نے آٹھ اضلاع سے مزید لاشیں برآمد کی ہیں، جس کے بعد اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد منگل کو بڑھ کر 987 ہو گئی۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش اور کئی اضلاع میں دریاؤں کی سطح آب بڑھنے کے درمیان امدادی کارکنوں کو پھنسے ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس دوران سیلاب کی ایک نئی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق تقریباً 4,000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 583 غیر ملکی شہری اور کئی سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ تقریباً 12,000 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ 26 اگست کو نیپال-تبت سرحد کے قریب برف اور چٹانیں کھسکنے یا برفانی تودہ گرنے کے باعث آنے والے اچانک سیلاب نے شمالی اور وسطی نیپال کے قصبوں اور دیہات میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
ہمالیائی سرحدی علاقے سے جنوب کی جانب بہنے والے بھوٹے کوشی دریا کا سیلابی پانی نشیبی علاقوں کی طرف پہنچا، جس سے مکانات، گاڑیاں، سڑکیں اور پل بہہ گئے، جبکہ پن بجلی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ چینی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اس آفت میں چین کی جانب بھی 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تبت میں تقریباً 550 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق نیپال میں چتوان سے 321، نول پرسی مشرق سے 216، نول پرسی مغرب سے 170 اور نواکوٹ سے 95 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ اسی طرح گورکھا سے 65، دھادنگ سے 55، تنہو سے 38 اور رسوا سے 27 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ نیپال میں حکام نے منگل کو ملک کے مشرقی، وسطی اور مغربی حصوں کے کئی اضلاع میں سیلاب کے خطرے کے حوالے سے نیا الرٹ جاری کیا اور دریاؤں کے آس پاس رہنے والے لوگوں سے محتاط رہنے اور احتیاطی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ این ڈی آر آر ایم اے کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق نواکوٹ اور رسوا اضلاع میں اچانک سیلاب آنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
ان علاقوں میں چھوٹے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ تاپلجونگ، سنکھووا سبھا، سولکھمبو، کھوٹانگ، اوکھل ڈھونگا، رامے چھاپ، دولکھا، سندھ پال چوک، کاورے پالانچوک، للت پور، بھکت پور، کھٹمنڈو اور دھادنگ سمیت مشرقی اور وسطی نیپال کے کئی اضلاع میں دریاؤں کی سطح آب بڑھنے کا خطرہ ہے۔ ان علاقوں میں اچانک سیلاب کا درمیانے درجے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق مغربی نیپال میں گورکھا، لمجنگ، ڈولپا، رکوم مشرق، رکوم مغرب، جاجَرکوٹ، دارچولا، بیتڑی، ڈڈیل دھورا، ڈوٹی، کیلالی اور کنچن پور اضلاع کے لیے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
این ڈی آر آر ایم اے نے موسم کی پیش گوئی کو دیکھتے ہوئے دریا کے کنارے اور دیگر حساس علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے محتاط رہنے اور ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکام نے بتایا کہ کوشی، نارائنی، باگمتی، کرنالی، مہاکالی اور ان کی معاون ندیوں کے علاوہ کنکائی، کملہ، ببئی، مشرقی راپتی اور مغربی راپتی دریاؤں کی سطح آب پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ نیپال حکومت نے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لیے 21,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر مسلسل پروازیں کر رہے ہیں۔
گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل 19 پل اور کئی شاہراہیں اور اہم سڑکیں سیلاب میں بہ گئی ہیں۔ ان میں نیپال اور چین کے درمیان اہم زمینی تجارتی راستہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کو جوڑنے والا رسوا گڑھی سرحدی راستہ بھی سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ وسطی نیپال کے رسوا، نواکوٹ اور دھادنگ اضلاع میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے حکام نے کھٹمنڈو کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی پرتھوی اور تریبھون شاہراہوں پر یک طرفہ ٹریفک نظام نافذ کر دیا ہے۔
نئے ٹریفک نظام کے تحت زیادہ سے زیادہ 14 نشستوں کی گنجائش والی کھٹمنڈو سے ہیٹاڈا جانے والی گاڑیوں کو فارپنگ-فاکھیل-کولیکھانی-بھیم پھیدی راستہ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی طرح ہیٹاڈا سے کھٹمنڈو جانے والی گاڑیوں کو بھیم پھیدی-کولیکھانی-سِسنیری-جنوبی کالی راستے سے جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ ہیٹاڈا سے کھٹمنڈو جانے والی 10 پہیوں تک کی بڑی مال بردار اور مسافر گاڑیوں کو تریبھون شاہراہ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ ہیٹاڈا واپس جانے والی ایسی گاڑیوں کو کانتی شاہراہ سے جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ یک طرفہ ٹریفک نظام دھادنگ ضلع کے کرشن بھیَر میں سیلاب کے باعث شاہراہ کے کچھ حصے بہہ جانے کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس راستے پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا تھا۔