پڑوسی ممالک افغان شہریوں کے لیے سرحدیں کھول دیں: اقوام متحدہ

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 1 Years ago
پڑوسی ممالک افغان شہریوں کے لیے سرحدیں کھول دیں: اقوام متحدہ

 

نیویارک: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے افغانستان کے پڑوسی ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ بگڑتی صورتحال کے پیش نظر افغانستان سے آنے والے ان افراد کے لیے بھی سرحدیں کھول دیں جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں۔افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد سے تاحال وہاں کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے جس کی ایک وجہ تو وہاں تیزی سے بڑھتی غربت ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے باہر جانا چاہتی ہے۔

اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر نے پڑوسی ممالک سے سرحدیں کھولنے کی درخواست کی ہے۔یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ طالبان کے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایران، پاکستان اور تاجکستان نے اگست سے اب تک بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو اپنے ملک سے نکال دیا ہے۔- ادارہ برائے پناہ گزین نے اس حوالے سے ان ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ملک بدری کے سلسلے کو روکیں کیونکہ افغان شہریوں کو اپنے ملک میں تکالیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یو این ایچ سی آر ان تمام ممالک سے سرحدیں کھلی رکھنے کی درخواست کرتا ہے جہاں وہ افغان شہری آ رہے ہیں جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔‘واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے آغاز میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کابینہ نے افغانستان کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے لیے چاول اور گندم بھیج رہا ہے جبکہ سوائے سیب کے افغانستان کے ساتھ باقی تجارت پر سے ٹیکس ختم کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب افغان طالبان نے دوحہ میں دو روزہ مذاکرات کے بعد ایک مرتبہ پھر امریکہ سے افغانستان کے اربوں ڈالرز کے منجمد فنڈز کو جاری کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔افغان طالبان کے وزیر خارجہ عامر خان متقی اور امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے ٹام ویسٹ کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان نے پابندیوں اور بلیک لسٹ کرنے کے سلسلے کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’دونوں وفود کے درمیان سیاسی، اقتصادی، انسانی، صحت، تعلیم اور سکیورٹی سے تعلق مسائل پر بات ہوئی ہے۔‘