واشنگٹن: ایران میں امریکی۔اسرائیلی حملوں کے طویل علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز کہا کہ یہ عراق جیسا نہیں ہے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں ہے۔ اس تنازع میں اب تک چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہیگسیتھ نے متنبہ کیا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید امریکی فوجیوں کے جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم سب سے بڑی تشویش ہیں اور ان کا سدباب ضروری ہے۔ حکام کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے پیدا ہونے والا خطرہ حملوں کے آغاز کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ ساتھ ہی اسے ایرانی قیادت کو اقتدار سے ہٹانے کے ممکنہ موقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام تیزی سے اور غیر معمولی حد تک بڑھ رہا تھا، اور اس سے امریکہ اور بیرونِ ملک تعینات ہمارے فوجیوں کو براہِ راست اور سنگین خطرہ لاحق ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ ایک علیحدہ پریس کانفرنس میں ہیگسیتھ نے کہا کہ اس کارروائی کا “فیصلہ کن مقصد ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ کرنا، اس کی بحری قوت کو تباہ کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ “کوئی جوہری ہتھیار باقی نہ رہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، یہ نام نہاد رجیم چینج کی جنگ نہیں ہے، لیکن رجیم چینج یقیناً ہوا ہے اور یہ دنیا کے لیے بہتر ہے۔ یہ تنازع اب پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ ایران اور اس کے حامی مسلح گروہوں نے اسرائیل، مختلف عرب ممالک اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔
اب تک چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، اور ٹرمپ، ہیگسیتھ اور کین نے مزید جانی نقصان کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ تمام چھ ہلاکتیں کویت میں ہوئیں۔ امریکی سینٹرل کمان کے مطابق ایران کے ابتدائی جوابی حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے دو فوجیوں کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔