حج 2026 کی تیاریاں عروج پر۔ لاکھوں عازمین سعودی عرب پہنچ گئے، شدید گرمی کی پیش گوئی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-05-2026
حج 2026 کی تیاریاں عروج پر۔ لاکھوں عازمین سعودی عرب پہنچ گئے، شدید گرمی کی پیش گوئی
حج 2026 کی تیاریاں عروج پر۔ لاکھوں عازمین سعودی عرب پہنچ گئے، شدید گرمی کی پیش گوئی

 



جدہ:  اتوار 17 مئی کو ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے ساتھ ہی حج بیت اللہ 1447 ہجری کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں عازمینِ حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جبکہ سعودی حکومت کے مختلف ادارے حجاج کرام کی سہولت اور سلامتی کے لیے آخری انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

 ایامِ حج میں شدید گرمی کی پیش گوئی۔ حجاج احتیاطی تدابیر اختیار کریں

سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات کے مطابق رواں سال حج سیزن کے دوران مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں شدید گرمی پڑنے کا امکان ہے۔  یکم ذوالحجہ سے 8 ذوالحجہ یعنی یوم الترویہ تک گرمی اپنے عروج پر رہے گی جبکہ گرد آلود ہوائیں بھی چل سکتی ہیں-

ایامِ حج میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 28 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 10 سے 40 فیصد تک ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یوم عرفہ سے 13 ذوالحجہ تک موسم گرم رہے گا تاہم درجہ حرارت میں معمولی کمی متوقع ہے۔ اس دوران پارہ 42 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے جبکہ بعض علاقوں میں جزوی ابر آلود موسم اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان بھی ہے۔

اس سال بھی سعودی عرب نے جدید ٹیکنالوجی اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے حجاج کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ خصوصاً ’’روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت کئی ممالک کے حجاج کو اپنے ہی ملک کے ایئرپورٹس پر امیگریشن اور کسٹم کے مراحل مکمل کرا دیے گئے ہیں تاکہ سعودی عرب پہنچنے پر انہیں اضافی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حجاج کا سامان بھی پیشگی طور پر سعودی عرب منتقل کیا جا چکا ہے۔

حج اسلام کا پانچواں رکن اور مسلمانوں کا عظیم ترین روحانی اجتماع ہے۔ ذیل میں حج کے ایام اور ان میں ادا کیے جانے والے اہم مناسک کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔

سات ذوالحجہ۔ منٰی کی جانب روانگی کا آغاز

سات ذوالحجہ سے حجاج کرام کے قافلے بتدریج مشاعر مقدسہ خصوصاً منٰی کی طرف روانہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ اس دن حجاج کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے لیکن انتظامی اعتبار سے یہی دن حج کے بڑے مرحلے کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ منٰی میں لاکھوں خیموں پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی عارضی بستی آباد ہو جاتی ہے۔

آٹھ ذوالحجہ۔ یوم الترویہ

آٹھ ذوالحجہ کو ’’یوم الترویہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی دن سے مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں مقیم حجاج احرام باندھ کر قافلوں کی شکل میں وادیِ منٰی پہنچتے ہیں۔حجاج اس دن منٰی میں قیام کرتے ہیں اور ظہر۔ عصر۔ مغرب۔ عشا اور فجر کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ منٰی میں عبادت۔ ذکر۔ pدعا اور تلبیہ کی صدائیں ہر سمت گونجتی رہتی ہیں۔

نو ذوالحجہ۔ وقوفِ عرفہ

نو ذوالحجہ حج کا سب سے اہم دن ہوتا ہے جسے ’’یوم عرفہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی دن وقوفِ عرفہ ادا کیا جاتا ہے جو حج کا رکنِ اعظم ہے۔دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں جہاں وہ ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع کی صورت میں ادا کرتے ہیں اور خطبۂ حج سنتے ہیں۔ حجاج جبل الرحمہ سمیت مختلف مقامات پر دعاؤں۔ استغفار اور توبہ میں مشغول رہتے ہیں۔حدیث کے مطابق یوم عرفہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی رحمت نازل فرماتا ہے اور بے شمار لوگوں کی مغفرت فرمائی جاتی ہے۔

غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانگی

غروبِ آفتاب کے بعد حجاج میدانِ عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں۔یہاں پہنچ کر وہ کھلے آسمان تلے رات گزارتے ہیں اور مغرب و عشا کی نمازیں جمع کر کے ادا کرتے ہیں۔مزدلفہ میں حجاج رمی کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں۔ یہ رات سادگی۔ عاجزی اور روحانی سکون کی ایک منفرد مثال ہوتی ہے جہاں امیر و غریب سب ایک ہی میدان میں قیام کرتےہیں۔

دس ذوالحجہ۔ یوم النحر اور قربانی

دس ذوالحجہ کو ’’یوم النحر‘‘ یعنی قربانی کا دن کہا جاتا ہے۔ فجر کےبعد حجاج منٰی واپس پہنچتے ہیں اور سب سے پہلے جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو سات کنکریاں مارتے ہیں۔اس کے بعد قربانی کی جاتی ہے , مرد حضرات سر منڈواتے یا بال ترشواتے ہیں جبکہ خواتین معمولی مقدار میں بال کٹواتی ہیں۔ اس مرحلے کے بعد احرام کی بیشتر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔اسی دن بہت سے حجاج مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیارت اور سعی بھی ادا کرتے ہیں جو حج کے بنیادی ارکان میں شامل ہیں۔

گیارہ ذوالحجہ۔ ایامِ تشریق کا آغاز

عید الاضحیٰ کے بعد کے دنوں کو ’’ایامِ تشریق‘‘ کہا جاتا ہے۔ گیارہ ذوالحجہ کو حجاج تینوں جمرات یعنی چھوٹے۔ درمیانے اور بڑے شیطان کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔رمی کے بعد حجاج اپنے خیموں میں واپس آ کر عبادات۔ دعا اور آرام میں وقت گزارتے ہیں۔ سعودی حکومت ان دنوں میں حجاج کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کرتی ہے۔

بارہ ذوالحجہ۔ رمی کا دوسرا دن

بارہ ذوالحجہ کو بھی حجاج تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں۔ جو حجاج جلدی واپس جانا چاہتے ہیں وہ غروبِ آفتاب سے قبل منٰی سے نکل جاتے ہیں۔تاہم جو لوگ منٰی میں قیام جاری رکھتے ہیں وہ تیرہ ذوالحجہ تک وہاں رہتے ہیں اور اضافی عبادات میں مشغول رہتے ہیں۔

تیرہ ذوالحجہ۔ مناسکِ حج کی تکمیل

تیرہ ذوالحجہ کو منٰی میں قیام کرنے والے حجاج آخری بار رمی ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مکہ مکرمہ واپس آ جاتے ہیں یا اپنے وطن واپسی کی تیاری کرتے ہیں۔روانگی سے قبل حجاج ’’طوافِ وداع‘‘ ادا کرتے ہیں جو بیت اللہ سے الوداعی حاضری ہوتی ہے۔ اس روح پرور لمحے میں لاکھوں آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور حجاج دوبارہ حاضری کی دعاؤں کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں۔

جدید سہولیات اور سعودی انتظامات

سعودی حکومت ہر سال حج کے دوران کروڑوں افراد کی آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی۔ مصنوعی ذہانت۔ ٹرین سروس۔ ایئر کنڈیشنڈ خیمے۔ طبی مراکز اور سکیورٹی نظام کا استعمال کرتی ہے۔حجاج کی رہنمائی کے لیے مختلف زبانوں میں ڈیجیٹل ایپس اور ہیلپ سروسز بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے مسلمان آسانی کے ساتھ مناسک ادا کر سکیں۔

حج۔ اتحادِ امت اور روحانی تجدید کا عظیم مظہر

حج صرف عبادت ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد۔ مساوات اور اخوت کا عظیم ترین مظہر بھی ہے۔ لاکھوں مسلمان نسل۔ زبان۔ رنگ اور قومیت کے فرق سے بالاتر ہو کر ایک ہی لباس میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور بندگی و عاجزی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔