واشنگٹن: وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا نوبیل امن انعام پیش کر کے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ پیش رفت وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد سامنے آئی، جو وینزویلا کی حالیہ غیر معمولی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
ماریا کورینا ماچادو نے ملاقات کے بعد میڈیا سے ہسپانوی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ انعام وینزویلا کی آزادی کے لیے امریکی صدر کی ’’منفرد وابستگی‘‘ کے اعتراف میں پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "میرے خیال میں آج وینزویلا کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ ہم امریکی صدر پر اعتماد کر سکتے ہیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند ہفتے قبل امریکی فوج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا تھا اور ان پر منشیات اسمگلنگ کے ایک مقدمے میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں اقتدار کا توازن شدید طور پر متاثر ہوا ہے اور اپوزیشن کی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماریا کورینا ماچادو کی جانب سے پیش کیا گیا نوبیل امن انعام قبول کر لیا۔ بعد ازاں اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے اس اقدام کو ’’باہمی احترام کا شاندار اظہار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنما سے ملاقات ان کے لیے ’’بہت بڑا اعزاز‘‘ ہے۔
ٹرمپ نے ماچادو کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ’’ایک غیر معمولی خاتون‘‘ ہیں جنہوں نے طویل جدوجہد اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ تاہم اس اقدام کے بعد ایک اہم سوال سامنے آیا کہ آیا کوئی نوبیل انعام یافتہ شخصیت اپنا انعام کسی اور کو دے سکتی ہے؟ اس حوالے سے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے گزشتہ ہفتے وضاحت جاری کی تھی کہ نوبیل انعام ایک بار اعلان کے بعد نہ تو منسوخ کیا جا سکتا ہے، نہ کسی کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق نوبیل انعام سے متعلق فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور ہمیشہ کے لیے برقرار رہتا ہے۔ اس وضاحت کے باوجود وائٹ ہاؤس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ نوبیل امن انعام اپنے پاس رکھ رہے ہیں، جس سے سفارتی اور اخلاقی سطح پر نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف وینزویلا کی سیاست بلکہ نوبیل انعام کی روایت اور اس کی علامتی حیثیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔