سڈنی: ایرانی خواتین فٹبالرز فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ نے آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزا ملنے کے بعد آسٹریلوی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک محفوظ ماحول میں اپنی زندگی اور کھیل کا نیا آغاز کرنا چاہتی ہیں۔
دونوں کھلاڑیوں نے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ انہیں آسٹریلیا میں “محفوظ پناہ گاہ” ملی ہے، جس کے لیے وہ حکومتِ آسٹریلیا اور وزیر داخلہ ٹونی برک کی شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق ان کی فوری ترجیح اپنی حفاظت، صحت اور ایک نئے مستقبل کی تعمیر ہے، تاہم وہ بطور پیشہ ور کھلاڑی اپنا فٹبال کیریئر بھی جاری رکھنا چاہتی ہیں۔
پس منظر کے مطابق ایران کی خواتین فٹبال ٹیم کی ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے دوران مجموعی طور پر 6 کھلاڑیوں اور ایک آفیشل کو آسٹریلیا میں انسانی بنیادوں پر ویزے دیے گئے تھے۔ بعد میں 5 کھلاڑی واپس ایران چلی گئیں، جبکہ یہ دونوں کھلاڑی آسٹریلیا میں رک گئیں اور اب برسبین روار نامی مقامی اے-لیگ ویمنز ٹیم کے ساتھ ٹریننگ کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب ایشین کپ کے دوران ایرانی ٹیم کی بعض کھلاڑیوں نے قومی ترانہ نہیں پڑھا تھا، جس کے بعد ایران میں سرکاری میڈیا نے بعض کھلاڑیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔