جنیوا: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام چھوڑ دیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی عمل میں شریک سینئر رہنما باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی حکام کو اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور تہران امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز کی بعض اہم شقوں پر عمل درآمد نہ ہوا تو دیگر معاملات پر جاری مذاکرات بھی معطل کیے جا سکتے ہیں۔
دریں اثنا مذاکرات کے آغاز سے قبل ایک اور غیر معمولی صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے منتظمین نے دونوں وفود کے درمیان مصافحے اور گروپ فوٹو کا انتظام کیا تھا، تاہم ایرانی نمائندوں نے اس میں شرکت سے معذرت کر لی۔
اس کے نتیجے میں افتتاحی تصویری تقریب ایرانی وفد کی عدم موجودگی میں منعقد ہوئی، جبکہ ایرانی نمائندے بعد ازاں مذاکراتی مقام پر پہنچے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں امریکی وفد نے صحافیوں کو مذاکراتی مقام سے باہر جانے کے لیے مختصر مہلت دینے کی درخواست بھی کی۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بحری آمدورفت کے لیے کھلا نہ رکھا تو امریکہ مزید اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو آبنائے ہرمز کی بندش کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر اس اہم بحری راستے کے تحفظ اور نگرانی کے لیے براہ راست کردار ادا کر سکتا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں سکیورٹی، توانائی کی ترسیل اور سفارتی تعلقات سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکراتی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔