ایران : پُرتشدد مظاہرے ختم، حالات معمول پر آنے لگے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 14-01-2026
ایران : پُرتشدد مظاہرے ختم، حالات معمول پر آنے لگے
ایران : پُرتشدد مظاہرے ختم، حالات معمول پر آنے لگے

 



تہران: ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق بین الاقوامی فون کالز کی بحالی عمل میں آ گئی ہے، تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ سروس بدستور بند رکھی گئی ہے۔

ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد حالیہ بدامنی میں استعمال کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ادھر ایران نے مظاہروں سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ایرانی قیادت نے ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایرانی عوام کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی قوتیں ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی کوشش کی تو ایران اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ یقین نہیں کہ امریکا منصفانہ اور سنجیدہ مذاکرات کا خواہاں ہے۔ عباس عراقچی نے جرمن چانسلر کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کے لیے دنیا کا بدترین مقام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمن قیادت وینزویلا کے صدر کے مبینہ اغوا پر مسلسل خاموش رہی، جبکہ غزہ میں 70 ہزار سے زائد شہادتوں پر خاموش رہنے والے جرمنی کو شرم آنی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران میں فسادات کے خاتمے اور حالات معمول پر آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام کو احتجاج پر اکسانے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے کھلے عام مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، امریکی مدد جلد پہنچنے والی ہے، اور اگر مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکا انتہائی سخت ردعمل دے گا۔ ایرانی حکام نے امریکی بیانات کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔