تل ابیب: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں “معمولی پیش رفت” ہوئی ہے، تاہم اس بات پر اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ کوئی معاہدہ ہو پائے گا یا دوبارہ جنگ شروع ہوگی۔ روبیو کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران پر فوجی حملہ اس لیے مؤخر کیا کیونکہ “اہم مذاکرات” جاری ہیں۔
ٹرمپ بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو اپریل کے وسط میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔ مارکو روبیو نے یہ بات سویڈن کے شہر ہیلسنگ بورگ میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کہی۔ اس اجلاس میں اس بات پر غور ہونے کا امکان ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی نگرانی میں فوجی اتحاد کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
روبیو نے کہا کہ وہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا: “تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی ہے اور یہ اچھی بات ہے۔” روبیو کے مطابق مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ اگرچہ حالیہ ہفتوں میں کئی بار پیش رفت کے دعوے کیے گئے، لیکن اب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ ٹرمپ نے کئی مواقع پر تہران کے لیے مختلف ڈیڈ لائنز مقرر کیں، تاہم بعد میں وہ ان سے پیچھے ہٹ گئے۔
روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے مغربی ایشیا کے اتحادی ممالک کی درخواست پر اس ہفتے ایران پر حملہ نہیں کیا۔ تاہم ایران کے ساتھ مذاکرات کو موقع دینے کے ٹرمپ کے فیصلے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
اس حوالے سے ایک عہدیدار نے جمعرات کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال پر فون پر گفتگو ہوئی تھی۔ عہدیدار کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے کی ٹرمپ کی کوششوں پر اسرائیل ناراض ہے۔ بعد میں ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “نیتن یاہو وہی کریں گے جو میں چاہوں گا۔”