دبئی: ایران کے سپریم لیڈر نے ہفتے کے روز ملک میں بدامنی پھیلانے والے مظاہروں کے حوالے سے کہا کہ ’’فسادیوں کے خلاف سختی کی جانی چاہیے۔‘‘ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے یہ بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حکام کو ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف زیادہ سخت اور جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
یہ مظاہرے ملک کی کمزور معیشت کے باعث ہو رہے ہیں، کیونکہ ایران کی کرنسی ’’ریال‘‘ کی قدر میں شدید کمی آئی ہے۔ اس وقت ایک امریکی ڈالر تقریباً 14 لاکھ ریال کے برابر ہو چکا ہے۔ ایران اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری، اور ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں کمی اور اندرونی معاشی بدانتظامی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ملک کے مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ سپریم لیڈر کے حالیہ بیان کو حکومت کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔