تہران : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کی جانب سے براہ راست پیغامات موصول ہو رہے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات نہیں ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ رابطہ رہا ہے اگرچہ یہ اکثر بالواسطہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے وٹکوف کی جانب سے براہ راست پیغامات ملتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی ملتے رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مذاکرات میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض پیغامات ثالثوں کے ذریعے بھی پہنچائے جاتے ہیں جن میں دھمکیاں اور مختلف خیالات کا تبادلہ شامل ہوتا ہے جو دوست ممالک کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ کسی بھی باضابطہ مذاکرات میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی امریکی تجاویز کا کوئی جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ کی پندرہ تجاویز میں سے کسی کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی شرط یا تجویز پیش کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام پیغامات وزارت خارجہ کے ذریعے بھیجے اور موصول کیے جاتے ہیں جبکہ سکیورٹی اداروں کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں۔
جنگ کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کسی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا بلکہ صرف مکمل جنگ کے خاتمے پر آمادہ ہوگا۔
ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پس پردہ رابطے جاری ہیں لیکن ایران نے تاحال باضابطہ مذاکرات کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ امریکہ کے ساتھ معاملات میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔