دبئی: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک گیر مظاہروں اور ان کے بعد ہونے والی خونریز کارروائی سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں سے بدھ کے روز معذرت کی ہے۔ صدر نے مظاہروں کے حوالے سے پھیلائے گئے مبینہ ’’مغربی پروپیگنڈے‘‘ کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ احتجاج اور اس کے خلاف کارروائی کے دوران عوام کو پہنچنے والے گہرے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے براہِ راست یہ تسلیم نہیں کیا کہ اس خونریزی میں ایرانی سکیورٹی فورسز کا کوئی کردار تھا۔ پزشکیان نے کہا، ہم عوام کے سامنے شرمندہ ہیں اور ان واقعات میں جن لوگوں کو نقصان پہنچا، ان کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہم عوام سے تصادم نہیں چاہتے۔
ایران میں حالیہ برسوں کے دوران مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کے باعث وقفے وقفے سے ملک گیر مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے حقوق، مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج نے شدت اختیار کی۔ بعض مواقع پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتیں اور سیکڑوں گرفتاریاں بھی رپورٹ ہوئیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایرانی حکومت ان مظاہروں میں بیرونی عناصر اور مغربی ممالک کی مداخلت کا الزام عائد کرتی رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے سکیورٹی فورسز پر طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کا الزام لگایا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کا حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اندرونی استحکام، معاشی دباؤ اور بین الاقوامی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اور حکومت عوامی ناراضی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔