ایران:21 افراد کو سزائے موت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-04-2026
ایران:21 افراد کو سزائے موت
ایران:21 افراد کو سزائے موت

 



تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی ماحول کے درمیان ایران کے حوالے سے ایک تشویشناک انسانی حقوق کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران میں کم از کم 21 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے، جبکہ 4,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تیزی سے بگڑی، جب خطے میں کشیدگی اور جنگ جیسی کیفیت پیدا ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران کم از کم نو افراد کو سزائے موت دی گئی، جن پر جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کا الزام تھا۔

مزید برآں، 10 دیگر افراد کو حکومت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے، جبکہ دو افراد کو جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق ہزاروں افراد کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر حراست میں لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ کئی قیدیوں کو حراست کے دوران جبری طور پر لاپتا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

اس میں جسمانی اور ذہنی اذیت، دھمکیاں اور زبردستی اعتراف کروانے جیسے معاملات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے سنگین اثرات کے درمیان ایرانی حکام کی جانب سے اپنے ہی شہریوں کے حقوق کی اس طرح خلاف ورزی انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال انسانی حقوق کی سنگین پامالی کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے ایرانی حکومت سے اپیل کی کہ مزید سزائے موت پر فوری طور پر روک لگائی جائے اور سزائے موت پر عارضی پابندی (موریٹوریم) نافذ کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام مقدمات میں منصفانہ قانونی عمل اور شفاف سماعت کو یقینی بنایا جائے، اور ان تمام افراد کو فوری رہا کیا جائے جنہیں غیر منصفانہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ موجودہ حالات صرف عسکری تنازع تک محدود نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات عام شہریوں کے حقوق اور زندگیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایسی کارروائیاں معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک و اداروں نے ایران سے انسانی حقوق کے احترام اور شفاف عدالتی نظام اپنانے کی اپیل کی ہے۔

تاہم ابھی تک ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مجموعی طور پر یہ رپورٹ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور انسانی حقوق کے بحران کی ایک سنگین تصویر پیش کرتی ہے، اور اب عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایران اس پر کیا اقدامات کرتا ہے اور آئندہ صورتحال کس سمت جاتی ہے۔