تہران: ایران میں 36 گھنٹے سے زائد جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے بعد آج پاسدارانِ انقلاب (Islamic Revolutionary Guard Corps) نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ سروسز جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے یہ اعلان اپنے ٹیلیگرام چینل کے ذریعے کیا۔
عالمی انٹرنیٹ مانیٹرنگ تنظیم نیٹ بلاکس نے بھی آج صبح رپورٹ دی کہ ایران میں انٹرنیٹ ٹریفک میں معمولی سا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 200 گھنٹوں سے زائد تعطل کے بعد سامنے آیا۔ نیٹ بلاکس کے مطابق، اگرچہ انٹرنیٹ کی رسائی میں معمولی بہتری آئی ہے، مجموعی کنیکٹیوٹی اب بھی معمول کے صرف تقریباً 2 فیصد پر برقرار ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ملک بھر میں مؤثر اور مکمل انٹرنیٹ بحالی کے کوئی واضح آثار ابھی دکھائی نہیں دے رہے۔ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش ملک میں مظاہروں اور فسادات کے دوران ایک عام حکمت عملی رہی ہے تاکہ معلومات کے بہاؤ اور احتجاجی تحریکوں پر قابو پایا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں جاری مظاہروں کے دوران بھی حکومت نے اس اقدام کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری اور کاروباری ادارے آن لائن خدمات سے محروم رہ گئے۔ بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کے گروپ انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو معلومات تک رسائی فراہم ہو سکے۔