تہران: ایرانی حکام نے گزشتہ ماہ ملک میں ہونے والے فسادات کے سلسلے میں چار غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ گرفتاریاں تہران صوبے میں مختلف مقامات پر کی گئی کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں، تاہم حکام نے گرفتار افراد کی قومیت ظاہر نہیں کی۔
سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپے مارے، جن کے دوران مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص کے بیگ کی تلاشی لی گئی، جس میں چار دیسی ساختہ اسٹن گرنیڈز برآمد ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرنیڈز حالیہ ہنگاموں اور بدامنی کے دوران استعمال کیے جانے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔
ایرانی حکام نے گرفتاریوں کی درست تاریخ یا زیرِ حراست افراد کے نیٹ ورک سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ایران کے مختلف شہروں میں سماجی و معاشی مسائل کے باعث احتجاجی مظاہرے اور ہنگامے دیکھنے میں آئے ہیں۔
ایرانی حکام اکثر ایسے واقعات کے پیچھے بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں اور سیکیورٹی سخت کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد گرفتاریوں کا اعلان بھی کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ گرفتاریوں کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے حکومت داخلی سلامتی کو لاحق خطرات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔