دبئی: اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران کے دارالحکومت تہران پر حملہ کیا، جس کے بعد شہر کے وسطی علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ہوا۔ سرکاری ٹیلی وژن نے دفاتر سے ملحقہ علاقے میں دھماکے کی تصدیق کی ہے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 86 سالہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت اپنے دفتر میں موجود تھے یا نہیں۔
امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث وہ گزشتہ چند دنوں سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ بڑھانے کے لیے خطے میں لڑاکا طیاروں اور جنگی بحری جہازوں کی بڑی تعداد تعینات کر رکھی ہے تاکہ ایران کو کسی ممکنہ معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس کارروائی کو "خطرات کے خاتمے" کے لیے اٹھایا گیا اقدام قرار دیا، تاہم انہوں نے فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تہران میں عینی شاہدین نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ بعد ازاں ایرانی سرکاری ٹی وی نے بھی دھماکے کی خبر نشر کی، لیکن اس کی وجوہات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
ادھر اسرائیل میں بھی خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی فوج نے بیان جاری کیا کہ عوام کو پیشگی خبردار کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ میزائل حملوں کی صورت میں وہ تیار رہیں۔ اسرائیل کی جانب سے حملے کے اعلان کے بعد تہران میں مزید کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم حکام نے تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا جب تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی تھیں۔ امریکی فوج نے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔