تہران: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جو مبینہ طور پر بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ فضائی حملوں کی دھمکیوں کے باوجود امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی جلد ختم ہونے کا امکان کم ہے اور امریکہ کی جاری ناکہ بندی جو عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہوئی ہے برقرار رہ سکتی ہے۔
امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پابندیاں ہٹانے کے بعد دوبارہ نافذ کر دی گئی ہیں اور یہ سلسلہ تقریباً دو ماہ قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکہ نے ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو قبضے میں لیا ہے جو ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اب وہ مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے اور اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے جہاز کے انجن روم کو ناکارہ بنا دیا۔
اسی دوران ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ ایران نے امن مذاکرات مسترد کر دیے ہیں اور اس کی وجہ امریکہ کی مسلسل ناکہ بندی بدلتے ہوئے مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات کو قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط مسترد کیں تو امریکہ ایران کے پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا اور اس نوعیت کی دھمکیاں جنگ کے آغاز سے جاری ہیں۔
دوسری طرف ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ خلیجی عرب ممالک کے پاور اسٹیشنز اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نمائندے دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے پیر کی شام اسلام آباد پہنچیں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جنہوں نے اس سے قبل پہلے امن مذاکرات کی قیادت کی تھی۔
پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکہ کے دو سی 17 کارگو طیارے اتوار کو ایئر بیس پر اترے جو امریکی وفد کی آمد کے لیے سامان اور سکیورٹی انتظامات لے کر آئے تھے۔
اسلام آباد میں انتظامیہ نے سکیورٹی کے پیش نظر پبلک اور بھاری ٹریفک کو محدود کر دیا ہے جبکہ سرینا ہوٹل کے اطراف خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں اور اسے خالی کرا لیا گیا ہے جہاں پہلے بھی مذاکرات ہوئے تھے۔