انقرہ، ترکیہ: ترکیہ کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے فائر کیا گیا ایک بیلسٹک میزائل مشرقی بحیرۂ روم کے اوپر نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کی مدد سے تباہ کر دیا گیا۔ وزارت دفاع کے مطابق میزائل کو بروقت نشانہ بنایا گیا اور واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
ترکیہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود اور سرحدوں کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ صدر رجب طیب اردوان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ملک اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے اور آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے ترکیہ کی جانب میزائل فائر کرنے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے کہا ہے کہ ایران ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ نیٹو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحاد اپنے تمام رکن ممالک، خصوصاً ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
تاہم، امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں نیٹو کے اجتماعی دفاع کے آرٹیکل 5 کے نفاذ کا امکان نظر نہیں آتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس واقعے کے بعد ایران کے 50 ہزار سے زائد میزائل اور ان کے استعمال کی صلاحیت نے امریکا اور اسرائیل کے مہنگے ترین دفاعی نظاموں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں تیل کی سمندری راہیں اور اسٹریٹجک فوجی اڈے واقع ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ترکیہ میں واقع انجرلک ایئر بیس نیٹو اور امریکی افواج کے لیے ایک اہم عسکری اڈہ ہے جو ماضی میں عراق اور افغانستان میں امریکی آپریشنز کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں ایران اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سلامتی اور توانائی کی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔