تہران: ایک ایرانی عہدیدار نے ایک خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جاری شدید احتجاج اور سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران اب تک تقریباً 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکام نے دو ہفتوں سے جاری ملک گیر بدامنی میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ان اموات کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جنہیں حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کا تناسب کیا ہے۔
یہ احتجاج خراب معاشی صورتحال کے خلاف شروع ہوا تھا اور اسے گزشتہ کم از کم تین برسوں میں ایرانی حکومت کے لیے سب سے بڑا اندرونی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بدامنی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے گزشتہ برس کیے گئے حملوں کے بعد بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
اسلامی انقلاب کے بعد سے برسر اقتدار ایرانی قیادت نے ان مظاہروں پر دوہرا مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ ایک طرف معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز تسلیم کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب سخت سکیورٹی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
حکام نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نامعلوم دہشت گرد عناصر نے احتجاجی تحریک کو یرغمال بنا لیا ہے۔
ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اس سے قبل بھی سینکڑوں ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ کی بندش اور ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کے باعث معلومات کی ترسیل شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔
ایجنسی کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں گزشتہ ہفتے کے دوران رات کے وقت مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان مناظر میں فائرنگ گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔