واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر قیادت امن منصوبے کے تحت غزہ میں کثیر ملکی امن فورس کے قیام کے سلسلے میں انڈونیشیا نے 8 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا امکان ظاہر کر دیا ہے۔ انڈونیشیا کے آرمی چیف کے مطابق، انڈونیشیا غزہ کے لیے 8 ہزار فوجی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ صدارتی ترجمان پراسیٹو ہادی نے بتایا کہ اس امن فورس میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی شمولیت متوقع ہے۔
انڈونیشیا نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی حتمی تعیناتی سے قبل فورس کے مینڈیٹ اور ذمہ داریوں کی تفصیلات کا انتظار کرے گا۔ اس کے علاوہ بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت کے لیے درکار ایک ارب ڈالر کی ادائیگی سے پہلے مذاکرات بھی ہوں گے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکی قیادت میں قائم یہ بورڈ آف پیس غزہ میں جنگ بندی، تعمیرِ نو اور مستقل امن کے لیے فنڈ ریزنگ کانفرنس بھی منعقد کرے گا۔ اس منصوبے میں مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے کئی ممالک شامل ہیں، جن میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، مصر، اردن، کویت اور قطر شامل ہیں۔ انڈونیشیا کی جانب سے فوجی تعیناتی کی پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر امن مشنز میں جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔