نئی دہلی : انڈونیشیا سال 2026 اور 2027 کے دوران گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کے تاریخی دورۂ انڈونیشیا کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر 15 ماہ پر مشتمل خصوصی تقریبات کا انعقاد کرے گا۔
آکاش وانی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انڈونیشیا میں ہندوستان کے سفیر سندیپ چکروورتی نے بتایا کہ ان یادگاری تقریبات کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی کے کل سے شروع ہونے والے دورۂ انڈونیشیا کے دوران کیا جائے گا۔
صد سالہ تقریبات کے تحت نمائشوں اور سال بھر جاری رہنے والے ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ہوگا جن میں ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے ثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا جائے گا۔
سفیر نے بتایا کہ گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور نے 1927 میں تقریباً تین ماہ انڈونیشیا میں گزارے تھے۔ اس دوران انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کی ثقافت روایات فنون رقص اور طرز تعمیر کا گہرا مطالعہ کیا۔
اپنے اس سفر سے متاثر ہو کر رابندر ناتھ ٹیگور نے بعد میں اپنے رفقا کو انڈونیشیا بھیجا تاکہ وہ وہاں کے فن رقص ثقافت اور فن تعمیر کا مطالعہ کریں۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کو نئی تقویت ملی۔ اس کی نمایاں مثال انڈونیشیا کی مشہور باٹک روایت ہے۔
موم کے استعمال سے کپڑے پر نقش و نگار بنانے کی یہ قدیم تکنیک رابندر ناتھ ٹیگور 1927 میں جاوا کے سفر کے بعد مغربی بنگال لے کر آئے تھے۔ آج یہی فن شانتی نکیتن باٹک کے نام سے فروغ پا چکا ہے جس میں انڈونیشی تکنیک کو مرشد آباد کے ریشم اور سوتی کپڑوں کے ساتھ ساتھ بنگالی نقش و نگار جیسے الپنا اور کنول کے ڈیزائن کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
سندیپ چکروورتی نے مزید بتایا کہ اس موقع پر ٹیگور۔دیوانتارا تعلیمی اور ثقافتی تبادلہ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا جس کے تحت یادگاری مدت کے دوران مختلف نمائشیں اور ثقافتی تقریبات منعقد ہوں گی۔
انڈونیشیا کے پہلے وزیر تعلیم کی ہاجر دیوانتارا رابندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نکیتن تعلیمی ماڈل سے بے حد متاثر تھے۔ بعد میں انہوں نے اسی تصور کی بنیاد پر تمن سسوا یعنی گارڈن اسکولز قائم کیے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ انڈونیشیا کے دوران رابندر ناتھ ٹیگور کے انڈونیشیا کے سفر پر مرتب کی گئی ایک نئی کتاب بھی انہیں پیش کی جائے گی۔