نئی دہلی: بھارت نے کابل میں ایک اسپتال پر مبینہ فضائی حملے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’’غیر انسانی‘‘ اور ’’قابلِ مذمت‘‘ قرار دیا ہے، اور عالمی برادری سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ بھارت نے اپنے بیان میں کہا کہ 16 مارچ کی رات کابل کے اومید ایڈکشن ٹریٹمنٹ اسپتال پر کیا گیا حملہ نہایت بربریت، بزدلی اور انسانیت سوز اقدام ہے، جس میں بڑی تعداد میں بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ مذکورہ اسپتال ایک مکمل طور پر غیر فوجی ادارہ تھا، جسے کسی بھی صورت میں عسکری ہدف نہیں سمجھا جا سکتا۔ بیان میں الزام لگایا گیا کہ پاکستان اس واقعے کو فوجی کارروائی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Our statement on Pakistan’s cowardly targeting of Kabul Hospital
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) March 17, 2026
🔗 https://t.co/uYbQhhc8MC pic.twitter.com/KVEaLyBtTB
افغان خودمختاری کی خلاف ورزی بھارت کے مطابق یہ کارروائی افغانستان کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کے ’’غیر ذمہ دارانہ رویے‘‘ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ بھارت نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پاکستان ماضی میں بھی اپنی داخلی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے سرحد پار کشیدگی کو ہوا دیتا رہا ہے، اور یہ واقعہ اسی پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں اس نوعیت کا حملہ اسے مزید قابلِ مذمت بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ وقت امن، برداشت اور ہمدردی کا پیغام دیتا ہے۔ ایسے میں مریضوں اور اسپتال کو نشانہ بنانا کسی بھی اخلاقی یا قانونی اصول کے خلاف ہے۔ بھارت نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور افغانستان میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے۔