ہندوستانی نژاد امریکی سائنسدان امیت کشتریہ کا ناسا مشن میں اہل کردار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 11-04-2026
ہندوستانی نژاد امریکی سائنسدان امیت کشتریہ کا ناسا مشن میں اہل کردار
ہندوستانی نژاد امریکی سائنسدان امیت کشتریہ کا ناسا مشن میں اہل کردار

 



واشنگٹن: بچپن میں ہیوسٹن میں راکٹ لانچ دیکھ کر متاثر ہونے والے اور بعد میں نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) میں مشنز کی قیادت سنبھالنے والے ہندوستانی نژاد امریکی سائنسدان امیت کشتریہ نے اس خلائی ایجنسی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو خلا نوردوں کو چاند پر اتارنے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔

وسکونسن میں پیدا ہونے والے کشتریہ ناسا میں ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ایجنسی کے اعلیٰ ترین سویلین عہدیدار ہیں اور ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کشتریہ ایجنسی کے 10 مراکز کے ڈائریکٹرز کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں قائم ناسا ہیڈکوارٹرز میں مشن ڈائریکٹوریٹس کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹرز کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ ایجنسی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔

کشتریہ کے والدین بھارتی نژاد ہیں۔ انہوں نے کیلیفورنیا کے پاساڈینا میں واقع کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ریاضی میں بی ایس سی اور آسٹن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس سے ریاضی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پیدائش وسکونسن کے بروک فیلڈ میں ہوئی، لیکن وہ ٹیکساس کے ہیوسٹن کے نواحی علاقے کیٹی کو اپنا آبائی شہر مانتے ہیں۔

خلا سے ان کی دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے ہیوسٹن میں راکٹ لانچز دیکھے۔ ہیوسٹن میں جانسن اسپیس سینٹر میں ناسا کا مشن کنٹرول سینٹر واقع ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تیل و گیس کی صنعت اور طبی شعبے میں کچھ عرصہ کام کیا، جس کے بعد 2003 میں وہ یونائیٹڈ اسپیس الائنس سے وابستہ ہو گئے۔ کشتریہ سافٹ ویئر انجینئر، روبوٹکس انجینئر اور خلائی جہاز آپریٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے روبوٹک اسمبلنگ پر کام کیا۔ وہ 2014 سے 2017 تک اسپیس اسٹیشن کے فلائٹ ڈائریکٹر رہے اور 2017 سے 2021 تک آئی ایس ایس وہیکل آفس کے نائب منیجر اور بعد ازاں قائم مقام منیجر رہے۔ 2021 میں انہیں ناسا ہیڈکوارٹرز میں ایکسپلوریشن سسٹمز ڈیولپمنٹ مشن ڈائریکٹوریٹ کے اسسٹنٹ ڈپٹی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تعینات کیا گیا، جہاں وہ اس ٹیم کا اہم حصہ رہے جس نے آرٹیمس-1 مشن کے دوران انسانوں کو چاند تک لے جانے کے لیے تیار خلائی جہاز کو بحفاظت واپس لانے میں کردار ادا کیا۔

کشتریہ ‘مون ٹو مارس’ پروگرام کے ڈپٹی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر بھی رہ چکے ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں انہیں ناسا کا ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تھا۔ انہیں اسپیس اسٹیشن کے 50ویں مشن کے لیڈ فلائٹ ڈائریکٹر کے طور پر ناسا کا “امتیازی قیادت کا تمغہ” دیا گیا۔ ناسہ کی ویب سائٹ کے مطابق، کشتریہ کو “سلور اسنوپی” ایوارڈ بھی ملا ہے، جو پرواز کی حفاظت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔