نئی دہلی: بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ عبوری تجارتی معاہدے (انٹرم ٹریڈ ایگریمنٹ) کی شقوں کو حتمی شکل دینے کے لیے منگل کو نئی دہلی میں تین روزہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔ یہ مذاکرات وزارتِ تجارت و صنعت کے ہیڈکوارٹر وانیجیہ بھون میں جاری ہیں۔
امریکی وفد کی قیادت چیف مذاکرات کار برینڈن لنچ کر رہے ہیں، جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی محکمۂ تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری درپن جین کر رہے ہیں۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک عبوری معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) پر بھی پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے فروری میں اس تجارتی معاہدے کے بنیادی خاکے کا اعلان کیا تھا۔ 7 فروری کو جاری بیان کے مطابق امریکہ نے بھارت پر عائد بعض محصولات (ٹیرف) کو 50 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے اور روسی تیل کی خریداری سے متعلق 25 فیصد اضافی محصول ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
دیگر محصولات کو بھی 18 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد وسیع جوابی محصولات کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد امریکی انتظامیہ نے 24 فروری سے 150 دنوں کے لیے تمام ممالک پر 10 فیصد یکساں ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کے پیش نظر دونوں فریق معاہدے کے مجوزہ فریم ورک کا دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔
اس سے قبل اپریل میں واشنگٹن میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس موضوع پر مذاکرات ہو چکے ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت بھارت نے امریکی صنعتی مصنوعات پر محصولات ختم یا کم کرنے کے علاوہ کئی زرعی اور غذائی اشیا پر رعایت دینے کی پیشکش کی ہے۔ ان میں مویشیوں کے چارے کے لیے سرخ جوار، خشک میوہ جات، تازہ اور پراسیس شدہ پھل، سویا بین کا تیل، وائن اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
بھارت نے آئندہ پانچ برسوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر مالیت کے توانائی کے وسائل، ہوائی جہاز اور ان کے پرزے، قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات اور کوکنگ کولہ خریدنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ عہدیدار کے مطابق امریکی ٹیرف پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کی وجہ سے معاہدے میں ترمیم کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ بھارت کو سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں تجارتی برتری حاصل ہو سکے۔
امریکہ بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 میں امریکہ کو بھارتی برآمدات 0.92 فیصد اضافے کے ساتھ 87.3 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 15.95 فیصد بڑھ کر 52.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس عرصے کے دوران بھارت کا تجارتی سرپلس (فاضل تجارتی توازن) کم ہو کر 34.4 ارب ڈالر رہ گیا، جو ایک سال قبل 40.89 ارب ڈالر تھا۔