یروشلم: مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج نے رمضان المبارک سے قبل مسجدِ اقصیٰ کے امام، شیخ محمد العباسی، کو حراست میں لے لیا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے سے بغیر کسی واضح وجہ کے گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتاری سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی حکام نے شیخ محمد العباسی کو ایک ہفتے کے لیے مسجد کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ امامِ اقصیٰ کا کہنا ہے کہ انہیں اس پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
انہوں نے اس اقدام کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سنگین کار حادثے کے بعد صحت یاب ہو کر اپنے مذہبی فرائض دوبارہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسجدِ اقصیٰ میں رمضان کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سال لاکھوں فلسطینی عبادت کے لیے یہاں جمع ہوتے ہیں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام کی جانب سے نمازیوں کے داخلے پر پابندیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے شیخ محمد العباسی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اسے مسجدِ اقصیٰ کے معاملات میں کھلی مداخلت اور ائمہ کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔